Genomic Network of Complexity

عام طور پہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک جین ایک قسم کی فینوٹائپ/خصوصیت/فنکشنز کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ انسانی جینوم مختلف جینز کے باہمی پیچیدہ نیٹورک پہ مشتمل ہے اور اکثر اوقات ایک جین بہت سی مختلف خصوصیات کو کنٹرول کرتا ہے یہ خصوصیات مکمل طور پہ مختلف ہو سکتی ہیں یا ملتی جلتی ہو سکتی ہیں لیکن ان کو کنٹرول ایک ہی جین کرتا ہے۔ اس کو pleiotropy کہا جاتا ہے۔ اور ایسے جینز کو pleiotropic genes کہا جاتا ہے۔ ایسے جینز اور ان سے منسلکہ مختلف خصوصیات/فنکشنز کی نشاندھی کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن اس کا واضح مشاہدہ تب دیکھنے کو ملتا ہے جب میوٹیشن کی وجہ سے کسی ایک جین کی کارکردگی خراب ہوتی ہے اور اس خراب کارکردگی والے ایک میوٹیٹڈ جین کے نتیجہ میں ہمیشہ ایک سے زیادہ فینوٹائپ/خصوصیات/فنکشنز پہ منفی اثرات پڑتے ہیں۔
مثال کے طور پہ sickle cell ایک جنیاتی بیماری ہے جس کی وجہ سے خون کے سرخ خلیات کی شکل بگڑ جاتی ہے اور ان میں آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک لے جانے کی صلاحیت پہ منفی اثرات پڑتے ہیں۔ یہ بیماری بیٹا گلوبن جین (HBB) میں ہونے والی single nucleotide substitution کی وجہ ہوتی ہے یعنی صرف ایک نیوکلیوٹائد (A) کی جگہ دوسرے نیوکلیوٹائڈ (T) سے بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے 147 امائینو ایسڈ کی چین میں مشتمل بیٹا گلوبن پروٹین کی چھٹی پوزیشن پہ گلوٹامک امائنوایسڈ (GAG) کی جگہ ویلین امائنوایسڈ (GTG) بننا شروع ہوجاتا ہے۔ جب یہ mutated بیٹا گلوبن پروٹین باقی کے تین گلوبن پروٹینز کے ساتھ مل کر چار حصوں پہ مشتمل مکمل ہیموگلوبن پروٹین بناتا ہے تو اس ہیموگلوبن پروٹین کی کارکردگی بھی خراب ہوتی ہے۔ مزید ان ہیموگلوبن پروٹینز کے خون کے سرخ خلیات  میں موجود ہونے سے یہ خلیات اپنا فنکشن صحیح سے سرانجام نہیں دے پاتے ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور suckle cell جیسی جینیاتی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
بیٹا گلوبن جین میں میوٹیشن سے صرف سرخ خلیات متاثر نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ اس کے ساتھ دل اور پھیپھڑوں وغیرہ کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے ایسی صورتحال کے مشاہدے اور اس پہ تحقیقات سے سائنسدانوں کو یہ واضح ہوتا ہے کہ بیٹا گلوبن جین (HBB) ایک pleiotropic gene ہے یعنی یہ ایک جین بہت سی مختلف خصوصیات اور فنکشنز کو کنٹرول کرتا ہے۔

اوپر بیان کی گئی pleiotropy کے الٹ ایک اور مظہر ہے جس میں بہت سے جینز ایک نیٹورک کی صورت میں مل کر صرف ایک خصوصیت/فینوٹائپ/فکشن کو کنٹرول کرتے ہیں اس کو polygenic adaptation کہا جاتا ہے۔ ایسی خصوصیات یا فنکشنز کو polygenic traits کہا جاتا ہے اور ایسے جینز کو polygenes کہا جاتا ہے۔ تقریباً تمام انسانی خصوصیات/فینوٹائپ حقیقت میں polygenic traits ہی ہیں اور ایک جین کا ایک فینوٹائپ کو کنٹرول کرنا یعنی monogenic traits بہت نایاب ہیں۔ پولیجینک خصوصیات کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے یہ continuous distribution ظاہر کرتی ہیں. یعنی جس طرح سپیکر کے ناب کو گھما کر آواز کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے نہ کہ ایک بٹن کی طرح جس کو صرف آن یا آف کیا جا سکے۔ اس کی مثال انسانی قد ہے۔ آپ کو ایک انچ یا چند ملی میٹر کے فرق سے ہر قد کا انسان ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کو صرف لمبے قد والے یا صرف چھوٹے قد والے انسان ہی ملیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قد ایک polygenic فینوٹائپ ہے یعنی بہت سے مختلف جینز مل کر تھوڑا تھوڑا حصہ ڈال کر صرف اس ایک فینوٹائپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جینز جینیاتی سطح پہ ہمیشہ ایک نیٹورک کی صورت میں کام کرتے ہوئے انسانی اعضاء اور جسمانی حصے بناتے ہیں مثال کے طور پہ حال ہی میں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ neural crest خلیاتی مجموعہ کے زریعے انسانی چہرے کی ڈیویلپمنٹ میں BAZ1B کا کردار ایک ماسٹر جین کا ہے جس کے ماتحت 448 مختلف جینز ایک نیٹورک کی صورت میں کام کرتے ہوئے انسان چہرہ کو تشکیل دتے ہیں، یہ کسی ایک جین کا کام نہیں۔
اسی طرح homeobox جینز کا نیٹورک ہے جو انسان کے پورے جسم کی ساخت اور بنیادی ڈھانچے کی تشکیل embryonic ڈیولپمنٹ کے دوران کرتا ہے۔ یہ 235 جینز کا ایک باہمی نیٹورک ہے جس کو مزید چھوٹے گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے مثال کے طور پہ 39 جینز کا ایک گروپ HOX کہلاتا ہے جو homeobox جین نیٹورک کا ہی حصہ ہے۔ PAX جینز کا گروپ بھی اسی homeobox جین نیٹورک کا حصہ ہے۔
پورا انسانی جینوم اور اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونی والی انسانی فینوٹائپ ایک انتہائی پیچیدہ جینیاتی نیٹورک پہ مشتمل ہے جس میں سے اگر ایک جین یا چند جینز کو چھیڑا جائے تو پورا انسانی جسم متاثر ہو سکتا ہے۔
ایسی صورت میں اگر کسی ایک جین میں کوئی منفی میوٹیشن ہوتو ظاہری بات ہے اس جین سے منسلکہ تمام جینز اور تمام فینوٹائپ کے متاثرہونے کا خدشہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اگر کسی ایک جینز میں کوئی مفید میوٹیشن ہو جائے تو بھی اس چیز کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ یہ میوٹیٹڈ جینز بدلی ہوئی ایکٹیویٹی کے ساتھ باقی جینز کے نیٹورک میں باہمی ربط سے کام کرسکے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ نیو ڈارونزم کے غیر سمتی، بے مقصد اور فطری حادثات پہ مشتمل فریم ورک سے نہ صرف انسانی جینوم بلکہ تمام جانداروں کے انتہائی پیچیدہ، باربط اور باہمی نیٹورک پہ مشتمل جینوم کی وضاحت آج کے جدید دور میں مشکل سے ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔

----------------------------------------

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post