Homosexuality and science


ہم جنس پرستی اور سائنس !
#Homosexuality and science!
 

ایک وقت تھا جب الحاد فلسفے کا سہارا لے کر لوگوں کو انکار خدا پر قائل کرتا اور مذہب کو قدامت پرست سوچ اور دقیانوسی کہہ کر رد کرتا لیکن الحاد کا یہ وار کامیاب نہیں ہوا اور الحاد نے پھر سائنس کا سہارا لیا اور نامکمل سائنسی علم کی آڑ میں مذہب مخالف تحریک شروع کی جس کی ایک وجہ عیسائیت میں تعصب پرستی اور بائبل کی تحریف شدہ سائنس سے متصادم عبارات تھیں یہی وجہ تھی کہ مغرب میں پہلے پہر سائنسی علم کی ترویج کرنے والے کو موت تک کی سزا سنائی جاتی اور ہزاروں سائنس دان موت کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے جبکہ دوسری طرف مسلمانوں نے سائنسی علم کو آزادی سے پروان چڑھایا اور سائنسی علم کی بنیاد رکھی جو بعد میں مغرب کیسے منتقل ہوا یہ ایک لمبی تاریخ ہے یہاں ہم سائنس اور الحاد کی بات کریں گے تو الحاد نے جب شروع میں سائنس کا سہارا لیا تو بعد میں سائنس کے نام پر بہت سے خود ساختہ نظریات بھی گھڑ لئے جس کی سادہ سی مثال ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جو کہ نامکمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سائنسی نظریہ ہے لیکن الحاد نے اس کو انکار خدا کی بنیاد بنا لیا اور یوں ایک پوری صدی ہونے کو ہے کہ الحاد ڈارون کے نامکمل سائنسی نظریے کی بنیاد پر مذہب کا رد کرنے پر بضد ہے جبکہ جدید سائنس اس کی تردید کرتی نظر آتی ہے اور ہزاروں نئی ریسرچز نظریہ ارتقاء کے رد میں پبلس ہو چکی ہیں اور سینکڑوں سائنسدانوں نے اس کو بوکس قرار دیا اور دستبردار ہو چکے ہیں لیکن الحادی آج بھی انکار خدا کرتے وقت اس کو دلیل بناتے ہیں جوکہ ان کی کم علمی اور سائنسی علم کو اپنی تعصب پرستی کے لئے استعمال کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

کچھ ایسا ہی آج کل پاکستان میں ہو رہا ہے اور ہوتا آ رہا ہے لیکن اب یہ چیز کچھ حد سے بڑھ گئی ہے ۔ اس جدید سائنسی دور اور ذرائع ابلاغ کے ہوتے ہوئے جہاں آپ کسی کو آسانی سے گمراہ نہیں کر سکتے وہیں کچھ زیادہ تر افراد کی تعداد ایسی ہے جو آسانی سے گمراہ ہو جاتے ہیں مطلب وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے اور کسی دو ٹکے کے قلم کار کی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بات کو سائنس کے رائپر میں لپیٹ کر جو ان کے ذہنوں میں ٹھونستا ہے ۔
کچھ ایسا ہی پچھلے دنوں مشت زنی کو لے کر کیا گیا جب ایک غیر اخلاقی عمل کو سائنس سے درست ثابت کیا گیا جبکہ اس کے بہت سے سائنسی پہلو اور نقصانات کو چھپایا گیا جبکہ ایلوپیتھی کی بے بسی کو بڑھا چڑھا کہ پیش کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی گائے بھینس کے انسانی جسم پر خودساختہ نقصانات پر بھی بات کی گئی جو کہ خالصتا سوڈوسائنس تھی جس کا در میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں ۔

اب حال ہی میں ہم جنس پرستی کو پرموٹ کیا جا رہا ہے اور ایسے ایک مکمل سائنسی عمل کہا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی لوگوں کو قدامت پرست کہا گیا تو دوسری طرف مذہب پر حلال حرام کئے جانے پر بھی خاصی تنقید کی گئی جبکہ وہاں مذہب پر بات کرنے پر پابندی ہے لیکن مسلمانوں کے لئے!

برحال ہم جنس پرستی کے سائنسی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو پہلے اس کو ارتقاء سے جوڑا جاتا تھا اور Gay Gene کا کہہ کر کہا جاتا کہ یہ ایک ارتقائی اور فطری عمل ہے جبکہ جدید سائنس نے اس بات کو مکمل غلط ثابت کیا ۔ جس کا رد صہیب زبیر بھائی کی اس پوسٹ میں سائنسی پیپرز اور آرٹیکل سے بہت پہلے گیا جا چکا ہے الحمداللہ 👇
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&id=1351698364995796

ویسے ہم جنس پرستی کے رد پہ اوپر دی گئی پوسٹ ہی کافی ہے ۔
لیکن پھر بھی لوگوں کی تسلی کے لئے میں یہاں کچھ مزید سائنسی پہلو اجاگر کرنا چاہوں گا اور بتانا چاہوں گا کہ کیسے سائنس کی آڑ میں سوڈو سائنس پھیلائی جا رہی ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں !
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ہر برائی کی شروعات معزز کہلائے جانے والے مغربی معاشرے سے ہوتی ہے جو ہر وہ غیر فطری اور غیر اخلاقی حرکت کرتے ہیں جس سے ان کو مزہ آتا ہوں یا تسکین ملتی ہو پھر وہ نشہ آوار اور خطرناک ڈرگر ہوں یا پھر اپنے جسم کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ جبکہ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے خطرناک نتائج بھگتنے پڑھ سکتے ہیں پھر بھی وہ باز نہیں آتے اور اپنے نفس کی تسکین کے لئے وہ کر گزرتے ہیں !
ایسا ہی ایک عمل ہم جنس پرستی ہے جس کو لے کر میڈیکل سائنس بہت سے خدشات کا اظہار کرتی ہے لیکن پھر بھی ہم جنس پرستوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ان کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے مغرب میں ان کو LGBTIQ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ لوگ ایک تنظیم کی طرح کام کرتے ہیں اس کے علاوہ پرونوگرافی اور برہنہ احتجاجوں وغیرہ میں بھی انھیں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے ۔

برحال یہ تو ان کا ہلکا سا تعارف تھا اب بات کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستی کے نقصانات کیا ہیں اور میڈیکل سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4957661/
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانس جینڈر خواتین (وہ خواتین جنہوں نے جنس کی تبدیلی کی ہو) میں ایچ آئی وی انفیکشن کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4771012/
اوپر دیئے آرٹیکل بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرستی کسی قسم کی کوئی دماغی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ نارمل سے ہٹ کر ایک جنسی رویہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جینیاتی بیماری ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4957774/
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں میں ایک جنسی طور پر پھیل سکنے والی بیماری syphilis کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC5219803/
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں میں سائیکولوجیکل معاشرتی مسائل کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4601552/
اوپر دیئے آرٹیکل کے مطابق امریکی کالے مردوں میں ایچ آئی وی ایڈ کی شرح ان مردوں میں بہت زیادہ ہے جو ہم جنس پرست رہے ہیں۔ ہم جنس پرستی ایڈز کی بیماری پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سب سے پہلے ایڈز دریافت بھی ہم جنس پرست مردوں میں ہوئی تھی۔

اس کے علاؤہ ہم جنس پرستی پر مزید کچھ سینکڑوں آرٹیکل موجود ہیں جو اس کو ایک برائی اور بری لت ہے لیکن پھر بھی ہمارے دیسی لبرل اور دیسی سائنسدان اس کو مشت زنی کی طرح ایک صحت بخش اور اچھی عادت قرار دیتے ہیں بنا سائنس کو پڑھے اور سمجھے جبکہ کہنے کو ان کی ہر بات کی بنیاد سائنس پر رکھی جاتی جبکہ حقیقتاً یہ لوگ سوڈوسائنس بیان کرتے اور کسی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔ ان کا ایجنڈا سائنس کی ترویج بلکل بھی نہیں بلکہ سائنس کے نام پر بے حیائ اور غیر اخلاقی حرکات کو عام کرنا ہے اور مسلم معاشرے کو اخلاقی نقصان پہنچانا ہے جس کے لئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جبکہ بات رہی سائنس کی تو آپ نے دیکھ ہی لیا کہ سائنس ان کے کسی دعوے کو سپورٹ نہیں کرتی بلکہ ارتقاء ، مشت زنی ،گائے بھینس کے دودھ کے نقصانات اور اب ہم جنس پرستی پر بھی ان کے سوڈو سائنس نظریات کا رد کرتی نظر آتی ہے ۔
امید کرتا کہ آپ ایسے سائنسی جاہلین کی حوصلہ شکنی کریں گے اور ایسے افراد کے خلاف آواز اٹھائیں گے جو سائنس کے نام پر سوڈوسائنس پھیلاتے اور سائنسی علم کو داغدار کرنے پر تلے ہیں اگر کسی کو مغربی تقلید کا زیادہ ہی شوق ہے تو وہ مغرب چلا جائے ہمارے معاشرے کو سائنس کے نام پر برباد مت کرے

 
امید کرتا ہوں کہ آپکو اس تحریر سے کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہو گا ۔
 
 

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post