Sarthenogenesis, Self reproduction , Asexual reproduction in plants , birds , reptile, mammals and in humans.

نوٹ ۔ میرا اس پوسٹ کے نکات سے اتفاق ضروری نہیں جو ساینس نے بیان کیا ہے وہی لکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی انسان یا جاندار کا بغیر شادی/ باپ کے پیدا ہونا یا کنواری ماں سے بچہ پیدا ہونا یا تو معجزہ miracle  مانا گیا ہے اور یا پھر اس بچے کی ماں کو بدکاری adultery کے الزامات سہنے پڑے ہے ۔ انسانی تاریخ میں جب کبھی بھی ایسا بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کی ماں اور بچے دونوں نے معاشرے کے ستم برداشت کر لیے ہے ۔ اور ہمارا معاشرتی تجربہ اس پہ ایک بلکل کھلا ثبوت ہے ۔ کیونکہ بغیر باپ کے بچے کا پیدا ہونا واقعی میں  ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا جرم مانا جاتا ہے ۔
اب یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آیا بغیر شادی کے یا کسی عورت کو چھوئے بغیر بھی بچہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ عام اذھان کے لیے یہ بات بلکل غیر منطقی illogical ہے اور بے ہودہ nonsense  ہے لیکن جدید ساینسی تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ واقعی بغیر باپ کے بچے کا پیدا ہونا بلکل ممکن ہے اور بہت سے دوسرے جانداروں میں اسے دیکھا بھی گیا ہے ۔ خود قران کریم  حضرت عیسیؑ کے پیدایش کے بارے میں یہی دعوی کرتا ہے کہ بغیر باپ کے حضرت عیسیؑ اس دنیا میں تشریف لا چکے ہے ۔ ایمان کی حد تک تو ہم کبھی بھی اس بات سے انکار نہیں کرے گے لیکن کیا ساینسی لحاظ سے بھی یہ بات ٹھیک ہے کہ نہیں ؟؟؟؟؟؟ اس کا تھوڑا سا جایزہ لیتے ہے ۔

جدید بایولوجی moderen biology نے ثابت کر دیا ہے کہ جانداروں میں بعض اوقات یہ معجزہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بغیر sexual reproduction کے (یعنی جانداروں کے بچے پیدا کرنے کے جبلی جذبے کے بغیر) کوئ بچہ اس دنیا میں آسکتا ہے ۔ عام طور پہ یہ بات ماننے کی نہیں لیکن جدید ساینس نے اس طریقہ کار کو ثابت کر دیا ہے اور اس عمل کو ساینس نے parthenogenesis کا نام دے رکھا ہے
پارتینوجینیسس parthenogenesis ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے کسی مادے کے اندر انڈے egg cell بغیر فرٹیلایزیشن fertilization کے ایک بچے میں بدل سکتا ہے جس طریقہ کار کو ہم asexual reproduction کا نام بھی دیتے ہے ۔ بہت سے ایسے جاندار جس میں sexual reproduction کے ساتھ اس طریقہ کار پہ بھی بچے پیدا ہوتے ہے جن میں مکھیاں ، بھڑ ، چیونٹیاں شامل ہے ،  بعض reptile اور فش fish اسی طریقہ کار پہ بچے پیدا کرتے ہے ، اور بہت سے پودوں میں بھی یہ عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔
یہ جاندار asexual reproduction کے ساتھ ساتھ sexual reproduction کے عمل سے بھی بچے پیدا کرتے ہے ۔

پارتینوجینیسس parthenogenesis کے دو اقسام ہے جس میں سے ایک کو apomixis کہا جاتا ہے اس طریقہ کار ایک مادے کا egg cell mitosis کے ذریعے produce ہوتا ہے ۔apomictic parthenogenesis میں ایک فیمل انڈہ oocyte مایٹوسس mitosis کے ذریعے ریپلیکٹ replicate ہونا شروع ہو جاتے ہے جس کے نتیجے میں دو diploid cells پیدا کر دیتا ہے ۔ یہ خلیات cells مکمل کروموسومز chromosome ہوتے ہے جس سے  ایک نیا مکمل embryo وجود میں آجاتا ہے
https://www.thoughtco.com/parthenogenesis-373474

یہ تو parthenogenesis کا ساینسی ثبوت ہے کہ بغیر mating کے بچوں کا پیدا ہونا قصے کہانیاں نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ میں اب ایک مشہور ساینسی جریدے کا حوالہ دینے والا ہوں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے یہ بات ساینسی دنیا میں توہمات اور قصوں سے زیادہ نہیں مانا جاتا تھا اور حضرت عیسیؑ کی پیدایش کو ہم صرف معجزات اور عقیدے کی حد تک مانتے تھے لیکن اب ساینس نے بھی اس معجزات پہ یقین کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اور اب یہ بات صرف micro organisms تک محدود نہیں رہی بلکہ phytons , sharks ,komodo dragon میں بھی یہ عمل ریکارڈ کیا گیا ہے جو بغیر sex کے یہ عمل ان کے اندر رونما ہوتا ہے ۔ جس کو parthenogenesis کا نام دیا جاتا ہے جس میں ایک مادہ بغیر fertilization کے egg کو develop کرتا ہے

 http://blogs.discovermagazine.com/discoblog/2009/01/09/the-science-of-virgin-birth/

اس پیپر میں بعد میں حضرت عیسیؑ کی پیدائش کا ذکر ہے ، حضرت عیسی تو مرد تھا اور مرد کے جسم میں میں y chromosome کا ہونا نہایت ضروی ہے
اس پروبلم کا حل بھی مل گیا بعض geneticist نے اس کا ایک قابل اطمینان حل پیش کیا جس کو جینات genetics کی زبان میں testicular feminization کہا جاتا ہے اس حالت میں ایک عورت کے اندر x and y دونوں chromosome بلکل مرد کی طرح موجود ہوتے ہے ، لیکن عورت کا x chromosome میوٹیشن کر کے اس کی body مردانہ فوطیرون testosterone پیدا کرتے ہے ۔ اور عورت کو حیثیت سے اس میں ترقی پیدا کرتا ہے

Mary may have had a condition called testicular feminisation. Women with this condition have an X and a Y chromosome like a man, but their X chromosome carries a mutation that makes their bodies insensitive to testosterone. This leads to their developing as a female.

Genetically male, and probably sporting ambiguous genitals, Mary would have been sterile. But had she become pregnant spontaneously, her child could have inherited an intact Y chromosome.
http://blogs.discovermagazine.com/discoblog/2009/01/09/the-science-of-virgin-birth/

حضرت عیسی کو بھی میوٹیشن mutation کی ضرورت تھی تاکہ اس کا ڈیولپمینٹ testosterone کے مقابلے بےحس ہوجایے اور وہ female کے بجایے male بن جایے جو اس کے ماں کے جسم اس کو وراثتی inherently طور پہ منتقل ہوی تھی
http://blogs.discovermagazine.com/discoblog/2009/01/09/the-science-of-virgin-birth/

اس کے میرے پاس ایک اور پیپر مشہور ساینسی جریدے new scientist کی ہے جس میں بتایا ہے گیا ہے کسی بچے کا قدرتی طور پہ  بغیر باپ کے پیدا ہونا virgin birth ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ برطانوی جینیٹیسٹ british geneticist نے ایک ایسے لڑکے کےبارے میں بتایا ہے جس کا جسم parts کی شکل میں unfertilized egg سے اخذ کیا گیا ہے ۔ اس لڑکے کو ساینسدانوں نے FD نام دیا ہے ۔
https://www.newscientist.com/article/mg14819982-300-the-boy-whose-blood-has-no-father/
لیکن ایک بات سمجھنے کی ہے کہ ایسے کیسز بہت rare ہوتے ہے جو کبھی کبھار ہوتے ہے کیونکہ انسانوں کے لیے ایسے حالات میں بہت تکلیف اٹھانا پڑھتا ہے ۔ باقی یہ عمل پودوں اور انڈے دینے والے جانداروں کے علاوہ mammals میں بھی پایا گیا ہے ۔مزید تحقیق کے لیے یہ پیپر ملاحظہ کیجیے

https://www.newscientist.com/article/mg14819982-300-the-boy-whose-blood-has-no-father/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post