What is Epigenetics Episode No.1


  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" آج ہم وہ زبان سیکھ رہے ہیں جس میں خدا نے زندگی پیدا کی".
(امریکی صدر بل کلنٹن)

"اب ہمارے پاس وہ سب کچھ حاصل کرنے کا امکان ہے جو ہم نے طب سے امید کی تھی."
(برطانوی وزیر سائنس لارڈ سینزبری)

"انسانی جینوم کے نقشے کو انسان کے چاند پر قدم رکھنے سے تشبیہ دی جاتی رہی ہے، لیکن میرا ماننا ہے یہ اس سے سے بھی بڑا کام ہے۔ یہ ایک بہترین کارنامہ ہے نہ صرف ہماری زندگیوں میں بلکہ انسانی تاریخ کا۔"
(مائیکل ڈیکسٹر، دی ویلکم ٹرسٹ)

یہ کچھ جملے ہیں جو 26 جون 2000 کو انسانی جینوم پروجیکٹ کے مکمل ہونے کی تقریب کے موقعہ پر کہے گئے۔اس طرح کے جملوں کو پڑھ کر ہم یہ سوچتے ہیں کہ شاید 2000 کے بعد سائنسدان اور محقق آرام کررہے ہیں کیونکہ انسانی جینوم پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد ہماری بہت سی مشکلات کے حل بآسانی نکلا کریں گے۔ بالآخر ہمارے پاس انسانیت کا بلیو پرنٹ موجود ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہمیں یہی کرنا ہوگا کہ ان معلومات کو بہتر طریقے سے سمجھنا ہوگا ۔بدقسمتی سے اس قسم کے خیالات بچگانہ ثابت ہوئے ہیں اور حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ڈی این اے ایک سکرپٹ کی طرح ہے۔ ایک مثال سے سمجھتے ہیں شیکسپیئر کے بہت سے ناولز کو فلم کی شکل دی گئی ہے ۔ رومیو جیولٹ کو لیکر بہت سی فلمیں بنائی گئی ہیں لیکن باوجود اسکے کہ ان فلموں میں شیکسپیئر کا سکرپٹ استعمال ہوا وہ ایک دوسرے سے مختلف دکھتی ہیں۔

بالکل یہی ہوتا ہے جب خلیات ڈی این اے میں موجود جینیاتی کوڈ کو پڑھتے ہیں۔ ایک جیسے سکرپٹ کے نتیجے میں مختلف پروڈکشن سامنے آتی ہیں۔ انسانی صحت پر اسکے اثرات بہت دور رس ہیں۔ اور آگے چل کر ہم کچھ کیسز کو دیکھیں گے جنکے اندر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیےکہ انکے ڈی این اے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی لیکن ماحول کے اثرات سے انکی زندگیوں میں شدید تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
---------------------------------------------------------------

ہالینڈ کی قحط زدہ سردیاں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈچ ہنگر ونٹر 1944 سے لیکر 1945 مغربی یورپ میں شدید سردی اور قحط کا وقت کہلاتا ہے۔ چار سالہ جنگ اور اس پر غذائی قلت نے سب سے زیادہ مغربی ہالینڈ کو متاثر کیا جوکہ اس وقت تک جرمنی کے قبضے میں تھا۔ جرمنی کی طرف سے مکمل خوراک کی ترسیل کی بندش کے باعث اس عرصے میں ہالینڈ کے لوگوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ نارمل دن کی خوراک کا صرف تیس فیصد کھا کر گزراوقات کر رہے تھے۔ گھاس پھوس کو خوراک بنایا گیا اور لکڑی کے جو ٹکڑا ملتا اسکو جلا کر زندہ رہنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ مئی 1945 میں جب خوراک کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی تو تب تک بیس ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے تھے۔

اس بھیانک واقعہ نے ان آبادیوں کو سائنسی تحقیقات کیلئے بھی موضوع سبجیکٹ بنادیا۔ یہ لوگ ایک ہی وقت میں غذا کی قلت کا شکار رہے تھے۔ ہالینڈ کے بہترین صحت کے نظام اور عمدہ ریکارڈز کی بدولت ماہرین  قحط کے  دور رس اثرات کو دیکھنے کے قابل ہوگئے تھے اور نتائج بالکل غیر متوقع تھے۔ اس تحقیق کا ایک ابتدائی پہلو قحط کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کے وزن کے بارے تھا۔ مثلاً جو حاملہ عورتیں صرف اپنے حمل کے آخری مہینوں میں غذائی قلت کا شکار رہی تھیں اور ابتدائی دنوں میں غذا کی فراہمی بہتر تھی ان کے بچے پیدائش کے وقت وزن میں کم تھے ۔ اسکے برعکس جو عورتیں حمل ٹھہرنے کےایام میں اور حمل کے ابتدائی تین مہینوں میں غذائی قلت کا شکار  رہیں تھی انکے بچے وزن میں صحیح تھے ۔

اس میں کوئی حیران کن بات معلوم نہیں ہوتی ہم جانتے ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں آخری تین مہینوں میں اپنی زیادہ تر بڑھوتری کرتا ہے۔ لیکن ایپیڈیمیولوجسٹس ان لوگوں کو لمبے عرصے تک سٹڈی کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ بچے جو پیدائشی طور پر کمزور تھے اپنی عمر کی اگلی تمام دہائیوں تک کمزور ہی رہے اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں انکے اندر موٹاپے کی شرح کم تھی۔  چالیس سال  انکو بہترین خوراک دستیاب تھی لیکن انکے جسم اپنے ابتدائی دنوں کی غذائی قلت کو پورا نہ کرپائے۔ ایسا کیوں تھا؟ ان ابتدائی ایام کا اثر انکی عمر کی دہائیوں پر کیسے پڑرہا تھا؟.

دوسری طرف وہ بچے جو ماں کے پیٹ میں ابتدائی ماہ میں غذائی قلت کا شکار رہے تھے لیکن پیدائش کے وقت صحت مند تھے ان میں عمر کی اگلی دہائیوں میں موٹاپے کی شرح زیادہ دیکھی گئی اور اسکے علاوہ بھی صحت کے مسائل کا شکار تھے۔ ماں کے پیٹ میں ابتدائی دنوں میں ایسا کیا اثر پڑا تھا جس نے انکو پوری زندگی کیلئے متاثر کردیا تھا؟ اور صرف یہ سوال اہم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوا بلکہ وہ خاص وقت بھی اہم تھا۔ اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ تھی کہ یہ اثرات صرف ان لوگوں تک محدود نہیں تھے بلکہ انکے بچوں میں بھی موجود تھے۔ یعنی حاملہ عورتیں جو غذائی قلت کا شکار ہوئیں انکے پوتوں تک یہ اثرات منتقل ہوئے تھے۔
---------------------------------------------------------------

شیزوفرینیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئیں ایک اور انسانی کہانی پر غور کرتے ہیں۔ شیزوفرینیا ایک خوفناک ذہنی بیماری ہے جسکا اگر علاج نہ کیا جائے تو مریض کو پوری طرح سے غیر فعال کرسکتی ہے۔ شیزوفرینیا کے شکار افراد '' حقیقی دنیا '' اور ان کے اپنے دھوکہ دہی اور فریب دہی کے دائرے میں فرق کرنے سے پوری طرح قابل نہیں ہوتے۔ ایک خوفناک غلط فہمی ہے کہ شیزوفرینیا کے شکار افراد پر تشدد اور خطرناک ہوتے ہیں۔  اکثریت مریضوں کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہوتا ہے ، اور اس بیماری کی وجہ سے جن لوگوں کو زیادہ تر نقصان اٹھانا پڑتے ہیں وہ خود مریض ہیں۔  شیزوفرینیا کے شکار افراد صحت مند افراد کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔

شیزوفرینیا ایک اذیت ناک حالت ہے۔  یہ بیشتر ممالک اور ثقافتوں میں 0.5 فیصد سے 1 فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی پچاس ملین سے زیادہ افراد زندہ ہوسکتے ہیں جو اس حالت سے دوچار ہیں۔  سائنس دانوں نے کچھ عرصے سے جان لیا ہے کہ یہ جاننے کے لئے جینیات ایک مضبوط کردار ادا کرتی ہے کہ آیا کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہوگا۔  ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ اگر ایک جڑواں بچوں کے جوڑے میں سے کسی میں شیزوفرینیا ہو تو ، 50 فیصد امکان ہے کہ دوسرے جڑواں بچے میں  بھی یہ حالت ہوگی۔

شناختی جڑواں بچے  بالکل ایک جیسے جینیاتی کوڈ کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ ایک ہی رحم مادر میں پرورش پارہے ہوتے ہیں اور عام طور پر وہ ایک طرح کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔  جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ، یہ حیرت انگیز نہیں لگتا ہے کہ اگر جڑواں بچوں میں سے کسی میں شیزوفرینیا پیدا ہوتا ہے تو ، اس کے دوسرے جڑواں میں بھی بیماری پیدا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔  در حقیقت ، ہمیں یہ سوچنا شروع کرنا ہوگا کہ اس کا امکان بہت زیادہ کیوں نہیں ہے۔  اعداد و شمار 50فیصد کی بجائے 100 فیصد کیوں نہیں ہیں؟  یہ کیسے ہے کہ بظاہر ایک جیسے دو افراد بہت مختلف ہو سکتے ہیں؟  ایک فرد کو ایک تباہ کن ذہنی بیماری ہے لیکن کیا اس کی دو جڑواں بچے بھی اس کا شکار ہوں گے؟ ماحول میں تغیرات اس کا سبب بنتے ہیں اس کا امکان نہیں ہے ، اور اگر ماحولیاتی تغیرات ایسا کرتے بھی ہیں تو ، ماحولیاتی اثرات دو جینیاتی طور پر ایک جیسے لوگوں پر اس قدر مختلف اثرات کیسے ڈالتے ہیں؟



(جاری ہے)

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post