what is Uranium235

Uranium 235
The fuel used in the atom bomb ...!

Everyone knows about the atomic bomb. Have you ever heard of the metal used in the atomic bomb? If not here's a new product just for you!

There are some very dangerous metals in the world, one of which is uranium.
After World War II, when the nuclear attacks on Hiroshima and Nagasaki were carried out, about 64 kg of uranium was used, of which only 0.002 nuclear energy was produced, of which 20 kg of uranium could be converted into energy. If it were, we would not be alive today. This gives you an idea of ​​how dangerous a small uranium isotope can be.

Uranium 235 is a dangerous, shiny white metal with atomic number 92 and is also called the metal of Hobb.
This dangerous element was discovered by Martin Heinrich in 1789. The new metal was named Uranium after the planet Uranus. The amount of uranium on the surface of the earth is 45 trillion tons. Uranium is found but it is of very poor quality. Uranium is found in sea rocks and depths, and is initially attacked. Later, it is extracted and chemically separated into pure uranium.
1 kg of uranium (235) produces 80 terazzo of energy.
Speaking of the history of uranium
From about 79 AD, the Roman Empire used uranium oxide to decorate objects that gave them a yellow color, although the Romans did not realize that it was uranium oxide, and by about 1800 the main function of uranium was to decorate glass and It was used in ceramics because uranium turns yellow and green. In 1789, Martin Heinrich, a German chemist, when he examined some minerals from a silver mine, showed them a new element named Uranus. Uranium was stored. The radioactive property of uranium was not studied until 1896. Henry Vetriel studied it for the first time but he could not explain its full features but one of his students "My Curry" He did a thorough research on it and then named it Radioactivity. In 1898, Marie Curie discovered a new element called Radium. To make this element, Marie Curie used several tons of uranium and Only a few grams of radium were needed, which at the time was proving to be a miracle in the treatment of radium cancer, which caused the price of radium to skyrocket. The price of an ounce of radium was about لیکن 75,000 The market for uranium fell, but because of radium, uranium became popular and was researched separately in many countries, but my work on the radioactive material of my curiosity attracted many scientists and all scientists experimented on uranium Began to do. In fact, radioactivity has a phenomenon, as we call nuclear fission, in which a parent nucleus splits into two, giving it a lot of energy.
In 1889, Otto Hahn of Germany carried out nuclear fission. At that time, the world was at war, and World War was raging. Andrew Fermi and his team built the first nuclear reactor, also called a nuclear pile. It was said that this atomic pile achieved controlled nuclear fusion for the first time in 1942. But at that time, the United States was afraid that Germany might develop a nuclear weapon before us, so the United States gathered nuclear scientists from many countries. He formed a team known as Hayden Work, which successfully tested a nuclear explosion in July 1945, and then a month later, in August 1945, at Hiroshima and Nagasaki. The atomic bomb was dropped, which made the whole world aware of the destructive power of this nuclear weapon.
After seeing the destructive power of uranium, when the war ended, nuclear energy began to be used for human welfare.
The first practical use of nuclear power or electricity was made in 1951. In the experimental nuclear reactor of the Los Research Center, a bulb was run from a nuclear reactor. Then in 1957, 60 megawatts of electricity was generated from the same power plant. Uranium began to be used to generate electricity

When it comes to the use of uranium, it is used in nuclear power plants to generate electricity. 1 kg of uranium generates 24,000 megawatts of electricity.

Uranium nitrate and acidate are also used in photography.
And as we all know, uranium 235 is also used to make atomic bombs. For these reasons, it is called a very precious metal.
Let's find out who has the most uranium in the world.
Australia is the world's largest source of uranium, accounting for 1.9 million tonnes
Kazakhstan is in second place with 6.1 million tons, followed by Russia with 500,000 tons. Canada has the fourth largest uranium reserves, while Niger is in fifth place.
Kazakhstan is the world's largest supplier of uranium, followed by Canada.

What if someone touches or touches uranium?
If a person goes to uranium, his body will start to deteriorate because uranium releases beta and gamma radiations.

In today's post, if you have anything more to say, please guide me in the comments. Thank you.


Uranium 235
یورینیئم 235
ایٹم بم میں استعمال ہونے والا ایندھن۔۔۔!

ایٹم بم کے بارے میں تو سب لوگ جانتے ہی ہیں کیا آپ نے کبھی ایٹم بم میں استعمال ہونے والی دھات کے بارے میں جانا ؟ اگر نہیں تو چلئے جانتے ہیں۔۔۔!!

دنیا میں کچھ بہت خطرناک دھاتیں ہے جن میں سے ایک دھات یورینیئم بھی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ ہوا تھا تب تقریباً 64 کلو یورینیئم کا استعمال کیا گیا تھا  جس میں سے صرف 0.002 جتنی ہی ایٹمی انرجی پیدا ہو پائی تھی  اس میں سے اگر 20 کلو گرام یورینیئم  بھی انرجی  میں تبدیل ہو جاتی تو آج ہم زندہ نہیں ہوتے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یورینیئم کا چھوٹا سا آسوٹوپ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔

یورینیئم 235 ایک خطرناک ،چمکیلی سفید رنگ کی دھات ہے  جس کا ایٹمی نمبر 92 ہے اور اسے  metal of Hobb بھی کہا جاتا ہے ۔
اس خطرناک ایلیمنٹ کی دریافت 1789 میں مارٹن ہینریچ نے کی اس نئی دھات کا نام سیارہ یورینس  کے نام پر یورینیئم رکھا گیا زمین کی اوپری سطح پر یورینیئم کی مقدار  45 ٹریلین ٹن ہے اور یہ دھات سب سے زیادہ آسٹریلیا میں پائی جاتی ہے پاکستان میں بھی یورینیئم پایا جاتا ہے لیکن یہ بہت ہی ناقص کوالٹی کا  ہے ۔ یورینیئم سمندری چٹانوں اور گہرائی سے ملتا ہے اور شروعات میں یہ ہملاوٹ زدہ ہوتا ہے بعد میں اس کو نکال کر کیمیکلز کے ذریعے خالص یورینیئم کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے ۔
1 کلو یورینیئم (235)   80 terrazzo جتنی انرجی پیدا کرتی ہے۔
یورینیم کی تاریخ کی بات کریں تو
قریب 79 AD سے ہی رومن امپائر یورینیئم آکسائیڈ کا استعمال چیزوں کو سجانے کے لئے کرتے تھے  جو انہیں پیلا رنگ دیتا تھا حالانکہ رومنز کو اس چیز کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ یورینیئم آکسائیڈ ہے اور تقریباً 1800 تک  یورینیئم کا بنیادی کام شیشے کو سجانے اور سرامکس میں کیا جاتا تھا کیونکہ یورینیئم پیلا اور ہرا رنگ دیتا تھا سال1789میں ایک جرمن کیمسٹ مارٹن ہنریچ نے جب سلور مائن سے لئے گے کچھ منرلز  کا جائزہ لیا تو تب انہیں ایک نیا ایلمنٹ دکھا جس کا نام یورینس سیارے سے لیا گیا اور اس کا نام یورینیئم رکھا گیا ۔یورینیم کی ریڈیو ایکٹیو پراپرٹی کو 1896 تک سٹڈی نہیں کیا گیا تھا ۔ ہینری ویٹیریل نے اس پر پہلی بار سٹڈی کی لیکن وہ اس کی مکمل خصوصیات نہیں بتا پائے تھے لیکن انھی کی ایک سٹوڈنٹ "میری کیوری " نے اس پر مکمل ریسرچ کی اور پھر انھوں نے اس کا نام ریڈیو ایکٹیویٹی رکھ دیا پھر سال 1898 میں میری کیوری نے ایک نئے ایلیمنٹ کی دریافت کی جس کا نام ریڈیم رکھا گیا  اس ایلمنٹ کو بنانے کے لئے میری کیوری کو کئی ٹن یورینئم اور کی ضرورت ہوتی تھی جس سے صرف کچھ گرام ریڈیم ہی بنتا تھا اس وقت ریڈیم کینسر کے علاج میں ایک معجزہ ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ریڈیم کی قیمت کافی زیادہ بڑھ گئی ایک اونس ریڈیم کی قیمت تقریباً 75 ہزار ڈالر تھی لیکن 1930 میں اس کی مارکیٹ گر گئی لیکن ریڈیم کی وجہ سے یورینیئم کو کافی پزیرائی ملی اور کافی ملکوں میں اس پر الگ الگ ریسرچرز ہونے لگیں لیکن میری کیوری کے ریڈیو ایکٹیو میٹریل پر کئے گے کام نے کافی سائنسدانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب سائنسدان یورینیئم پر تجربات کرنے لگے ۔ دراصل ریڈیو ایکٹیویٹی میں ایک فینامنہ یا عمل ہوتا ہے جیسے ہم نیوکلیئر فشن کہتے ہیں جس میں ایک پیرنٹ نیوکلیس دو حصوں میں بٹ جاتا ہے  جس سے کافی زیادہ انرجی پیدا ہوتی ہے
سال 1889 میں جرمنی کے اوٹو ہین نے نیوکلیئر فشن کا عمل سر انجام دیا اس وقت پوری دنیا میں جنگ جاری تھی یعنی ورلڈ وار چل رہی تھی اس کے بعد اینڈریو فرمی اور ان کی ٹیم نے پہلی بار نیوکلیئر ری ایکٹر بنایا جس کو ایٹمی پائل بھی کہا جاتا تھا اور اس ایٹامیک پائل نے 1942 میں پہلی بار کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن حاصل کی ۔لیکن اس وقت امریکہ اس بات سے ڈرا ہوا تھا کہ کہیں جرمنی ہم سے پہلے ایٹمی ہتھیار نہ بنا لے اس لئے امریکہ نے کافی سارے ملکوں کے نیوکلیئر سائنسدان اکٹھا کر کے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم کا کیا گیا کام مین ہیڈن ورک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس ٹیم نے جولائی 1945 میں کامیابی سے نیوکلیئر ایکسپلوین کو ٹیسٹ کیا اور پھر اس کے ایک مہینے بعد یعنی اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا جس سے پوری دنیا اس ایٹمی ہتھیار کی تباہ کن طاقت کو جان گئی۔
یورینیئم کی تباہ کن طاقت کو دیکھنے کے بعد جب جنگ ختم ہوئی تو  نیوکلیئر انرجی کا استعمال انسانی بہبود کےئے کیا جانے لگا ۔
سال 1951 میں پہلی بار نیوکلیئر پاور یا بجلی کا پریکٹیکل استعمال کیا گیا  ۔لوس ریسرچ سینٹر کے ایکپریمنٹل نیوکلیئر ری ایکٹر میں ایک بلب کو نیوکلیئر ری ایکٹر سے چلایا گیا پھر سال 1957 میں اسی پاور پلانٹ سے 60 میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی اور یوں یورینیئم بجلی پیدا کرنے کے کام آنے لگا

یورینیئم کے استعمال کی بات کی جائے تو ایٹمی گھروں میں اس کا استعمال بجلی بنانے کے لئے کیا جاتا ہے 1 کلو یورینیئم سے 24 ہزار میگا واٹ جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے۔

یورینیم کے نائٹریٹ اور  ایسیڈیٹ کا استعمال فوٹوگرافی میں بھی ہوتا ہے ۔
اور جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یورینیئم 235 کا استعمال ایٹم بم بنانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے ۔انہی وجوہات کی بنا پر ایسے ایک بےحد قیمتی دھات کہا جاتا ہے ۔
چلئے جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ یورینیئم جس کے پاس ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ 39 فیصد یورینیئم آسٹریلیا سے ملتا ہے جو 17 لاکھ ٹن ہے
دوسرے نمبر پہ 6.1 لاکھ ٹن کے ساتھ قازقستان ہے جبکہ 5 لاکھ ٹن کے ساتھ روس تیسرے نمبر پہ ہے یورینیئم کا چوتھا بڑا ذخیرہ کینیڈا کے پاس جبکہ نائزر پانچویں نمبر پر ہے
جبکہ دنیا کو یورینیئم فراہم کرنے میں پہلا نمبر قازقستان اور دوسرا کینیڈا کا ہے ۔

کیا ہو گا اگر کوئی یورینیئم کے پاس چلا جائے یا چھو لے تو ؟
اگر کوئی بندہ یورینیئم کے پاس چلا جائے تو اس کا جسم خراب ہونے لگے گا کیونکہ یورینیئم سے بیٹا اور گامیا ریڈیشنز نکلتی رہتی ہیں

آج کی اس تحریر میں اتنا ہی اگر آپ کے پاس کچھ مزید بتانے کو ہے تو کمنٹ میں راہنمائی فرمائیں شکریہ

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post