Alcatel Pixi   Price Data

Alcatel Pixi   Price Data

Alcatel Pixi   Price Data

A beautiful and temperate planet of the past, which has now become the hell of the solar system,Wonders of the universe Venus planet

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 

Wonders of the universe
49 Venus planet
"A beautiful and temperate planet of the past, which has now become the hell of the solar system."
Very beautiful and also very dangerous. Hussein so much so that even people thousands of years ago could not live without being impressed by her beauty and kept trying to discover her secrets. The ancient Greeks saw her beauty and named her the goddess of beauty and love. Dangerous is the fact that after the sun, if there is a destructive astronomical body in the solar system, it is that astronomical body. This is what we know as the planet Venus and the Greeks called it Venus.
.. .. .. .. .. .. .. .. ...
The planet Venus is the second planet in the solar system. It is one of the four rocky planets in the solar system. Before the beginning of the twentieth century, all we knew about it was that it was a planet. Acid clouds of carbon dioxide and sulfur on this planet do not allow more than half of the sun's light to reach its surface. That is why for centuries we have only seen it as a shining astronomical body. 
However, thanks to the advancement of space technology in the twentieth century, with the help of radar and the information sent by spacecraft, we have a lot of information about the planet Venus today.
.. .. .. .. .. .. .. ...
The average distance of the planet Venus from the Sun is 108 million kilometers. If there is an astronomical body that comes closest to the earth after the moon, it is the planet, Venus. It is very close to the earth once in 584 days. When it comes to the closest distance to the earth, it is at a distance of 38 million kilometers from the earth. At the farthest distance from the earth, it is at a distance of about 26 million kilometers from the earth. Since the orbit of the planet, Venus is located between the Earth and the Sun. That is why when viewed from the earth, the planet Venus decreases and increases like the moon. When viewed from the earth, it is most visible when it is not close to the earth but at a distance. 
If the planet Venus is between the Sun and the Earth, then its bright part is not completely towards the Earth. Conversely, if it is behind the sun, the brightest part of it will be towards the earth. That is why it is brighter when it is far away from us.
It is also a wonder to us that one day of the planet Venus is greater than one year. It is very slow on its axis. The earth revolves around its axis at a rate of 1674 km per hour. But the axial rotation of the planet Venus is much slower than that of the Earth. It rotates on its axis at a rate of only six and a half kilometers per hour. In 243 Earth days, it completes one revolution on its axis.
 That is, one day is equal to 243 days of the earth. The day of the planet Venus is called Venusian day. One of the features of its axial rotation is its rotation from east to west. That is, the sun rises and sets on it. There are only two planets in the solar system (Venus and Uranus) that revolve from east to west. What is the cause of the inverted axial rotation of the planet Venus? 
We don't know about that at the moment. It may have collided with a large astronomical body in the past and that collision has reversed its axial rotation from east to west. Or it may have turned upside down on its poles. That is, the collision of a large astronomical body caused its the North Pole to move to the South and the South Pole to the North, causing its axial rotation from East to West (Clockwise).
The planet Venus moves at a speed of thirty-five kilometers per second in its orbit. Compared to the day, its one year is equal to 225 Earth days and it is called Venusian year. Like the planet Mercury, the planet Venus is not bent on its axis. Due to the lack of significant axial tilt, it has the same weather throughout the year.
Of all the planets in the solar system, Venus has the most circular orbit around the Sun. That is, when there is the closest and farthest distance from the sun, there is no significant difference in its distance. Its orbit around the sun is not a perfect circle, but it can be said to be close to perfect.
(to be continued)
 
.. .. .. .. .. .. .. .. ...
This image of the planet Venus taken by NASA is original.


عجائباتِ_کائنات
49۔ سیارہ زُہرہ (Venus planet)
"ماضی کا ایک خوبصورت اور معتدل مزاج سیارہ، جو اب نظام شمسی کی جھنم بن چکا ہے"
نہایت حسین اور انتہائی خطرناک بھی۔ حسین اس قدر کہ ہزاروں سال قبل کے لوگ بھی اس کے حُسن سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اس کے رازوں کو کھوجنے کی کوشش کرتے رہے۔ قدیم یونانیوں نے اس کے حُسن کو دیکھ کر اسے حسن و محبت کی دیوی کا نام دے دیا۔ خطرناک اس قدر ہے کہ سورج کے بعد اگر نظام شمسی کا کوئی تباہ کُن فلکیاتی جسم ہے تو وہ یہی فلکیاتی جسم ہے۔ یہی ہے، جسے ہم سیارہ زُہرہ Planet Venus کے نام سے جانتے ہیں اور یونانی اسے وینس Venus کے نام سے پکارتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیارہ زُہرہ نظام شمسی کا دوسرا سیارہ ہے۔ یہ نظام شمسی کے چار چٹانی سیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کی شروعات سے قبل ہم اس کے بارے میں فقط اتنا ہی جانتے تھے کہ یہ بھی ایک سیارہ ہے۔ اس سیارے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گندھک کے تیزابی بادل سورج کی آدھی سے زیادہ روشنی کو اس کی سطح پر نہیں اترنے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صدیوں تک ہم اسے فقط ایک چمکتے ہوئے فلکیاتی جسم کی صورت میں ہی دیکھتے رہے ہیں۔ تاہم بیسیویں صدی میں خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت راڈار کی مدد سے اور خلائی جہازوں کی بھیجی ہوئی معلومات کے سبب آج ہمارے پاس زُہرہ سیارے کے متعلق بہت ساری جانکاری موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیارہ زُہرہ کا سورج سے اوسط فاصلہ دس کروڑ اسی لاکھ کلومیٹر ہے۔ چاند کے بعد زمین کے قریب ترین اگر کوئی فلکیاتی جسم آتا ہے تو وہ سیارہ زُہرہ ہی ہے۔ یہ پانچ سو چوراسی 584 دنوں میں ایک بار زمین کے انتہائی قریب ہوتا ہے۔ جب یہ زمین کے قریب ترین فاصلے پر آتا ہے تو یہ زمین سے تین کروڑ اسی لاکھ کلومیٹر دوری پر ہوتا ہے۔ زمین سے انتہائی دوری کے موقع پر یہ زمین سے کم و بیش چھبیس کروڑ کلومیٹر کی مسافت پر ہوتا ہے۔ چوں کہ سیارہ زُہرہ کا مدار (Orbit) زمین اور سورج کے درمیان میں واقع ہے۔ اسی لیے زمین سے دیکھنے پر سیارہ زُہرہ چاند کی طرح گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ زمین سے دیکھنے پر یہ سب سے زیادہ روشن تب نظر آتا ہے جب یہ زمین سے نزدیک نہیں بلکہ دوری پر ہو۔ اگر سیارہ زہرہ سورج اور زمین کے درمیان میں ہو تو اس کا روشن حصہ مکمل طور پہ زمین کی طرف نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ سورج کے عقب میں ہو گا تو اس کا زیادہ سے زیادہ روشن حصہ زمین کی طرف ہو گا۔ اسی لیے یہ ہمیں تب زیادہ روشن نظر آتا ہے جب یہ ہم سے دور ہو۔

یہ بھی ہمارے لیے ایک حیران کُن امر ہے کہ سیارہ زُہرہ کا ایک دن اس کے ایک سال سے بڑا ہے۔ یہ اپنے محور پر انتہائی سُست رفتار ہے۔ زمین اپنے محور پر سولہ سو چوہتر 1674 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے چکر لگاتی ہے۔ لیکن زمین کے مقابلے سیارہ زہرہ کی محوری گردش انتہائی سُست ہے۔ یہ اپنے محور پر فی گھنٹہ فقط ساڑھے چھ کلومیٹر کے حساب سے گھومتا ہے۔ 243 زمینی دنوں میں یہ اپنے محور پر ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ یعنی زمین کے 243 دنوں کے برابر اس کا ایک دن ہے۔ سیارہ زُہرہ کے دن کو Venusian day کہا جاتا ہے۔ اس کی محوری گردش کی ایک خصوصیت اس کا مشرق سے مغرب (east to west) کی طرف گھومنا ہے۔
 یعنی اس پر سورج کا طوع و غروب الٹ ہے۔ نظام شمسی میں صرف دو (زہرہ اور یورینس) ہی ایسے سیارے ہیں جو مشرق سے مغرب کی طرف گھومتے ہیں۔ سیارہ زہرہ کی الٹی محوری گردش کا سبب کیا ہے؟ اس متعلق فی الحال ہم نہیں جانتے۔ ممکن ہے کہ ماضی میں اس کا کسی بڑے فلکیاتی جسم سے ٹکراؤ ہوا ہو اور وہ ٹکراؤ اس کی محوری گردش کو مشرق سے مغرب کی جانب پھیر گیا ہے۔ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اپنے قطبین (poles) پر الٹ گیا ہو۔ یعنی کسی بڑے فلکیاتی جسم کی ٹکر سے اس کا شمالی قطب جنوب کی جانب اور جنوبی قطب شمال کی جانب ہو گیا تھا، جس سے اس کی محوری گردش مشرق سے مغرب (Clockwise) ہو گئی تھی۔

سیارہ زُہرہ اپنے مدار پر پینتیس کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے۔ دن کے مقابلے اس کا ایک سال 225 زمینی دنوں کے برابر ہے اور اسے Venusian year کہا جاتا ہے۔ سیارہ عطارد کی طرح سیارہ زُہرہ بھی اپنے محور پر کچھ خاص نہیں جُھکا ہوا۔ خاطر خواہ محوری جُھکاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اس پر سارا سال ایک ہی طرح کا موسم رہتا ہے۔
نظام شمسی میں موجود تمام سیاروں میں سے زہرہ سیارے کا مدار سورج کے گرد سب سے زیادہ گول (Circular) ہے۔ یعنی سورج سے نزدیک ترین اور انتہائی مسافت پر ہوتے وقت اس کے فاصلے میں کچھ خاص فرق نہیں آتا ہے۔ سورج کے گرد اس کے مدار کو پرفیکٹ گول تو نہیں البتہ پرفیکٹ کے قریب قریب کہا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناسا کی لی ہوئی سیارہ زُہرہ کی یہ تصویر اصل ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post