پاکستان کا لفظ acrostic ہے , what do you know about Pakistan name

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 

 


آزادی ہند (۲۰)
پاکستان کا لفظ acrostic ہے۔ اس کو مندرجہ ذیل حروف کو ملا کر بنایا گیا تھا۔
پ: پنجاب کے لئے
ا: افغانیہ کے لئے (اس میں صوبہ سرحد اور قبائلی علاقے تھے)
ک: کشمیر کے لئے
س: سندھ کے لئے
تان: بلوچستان کے لئے
یہ علاقے غالباً اس تجویز سے لئے گئے تھے جو انہوں نے 1933 کے “اب یا کبھی نہیں” کے عنوان کے پمفلٹ میں لکھی تھی۔ اس لفظ کا دہرا مطلب تھا۔ پاکستان کا دوسرا مطلب پاک لوگوں کی سرزمین ہے۔
اور اس نام سے دو چیزیں فوراً نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس میں “ک” تھا۔ یعنی خیال یہ تھا کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ آئے گا جبکہ اس میں پاکستان کا زیادہ بڑا والا حصہ شامل ہی نہیں تھا۔ اس میں “ب” نہیں تھا۔ یعنی بنگال کا ذکر نہیں تھا۔
پاکستان کا نام رکھنے والے چوہدری رحمت علی کا تصور یہ تھا کہ بھارت کے علاوہ تین الگ ممالک بنیں گے۔ پاکستان، بانگِ اسلام اور عثمانستان (جو حیدرآباد دکن کی آزاد ریاست تھی)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب 1947 کا سال شروع ہوا تھا تو ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں لیا گیا تھا کہ برٹش ملک کو تقسیم کر کے جائیں گے یا جیسا ہے، ویسا ہی چھوڑ جائیں گے۔ انڈیا آنے والے آخری وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن تھے جو 22 مارچ 1947 کو انڈیا پہنچے تھے۔ ان کی پڑنانی ملکہ وکٹوریا نے دہلی میں تاجپوشی کی تقریب میں ملکہ ہندوستان کا لقب اختیار کیا تھا اور ہندوستان باقاعدہ طور پر برطانوی سلطنت کا حصہ بنا تھا۔ اب ملکہ وکٹوریا کی تیسری نسل میں لوئی ماوٗنٹ بیٹن کو جو کام سونپا گیا تھا، وہ اس سے متضاد تھا۔ ان کی پڑنانی نے جو تاج پہنا تھا، اب اس کو گرائے جانے کا وقت آ گیا تھا۔ یہ کام لوئی ماونٹ بیٹن کے سپرد ہوا تھا۔
انہیں ہدایات دی گئی تھیں کہ اگر ممکن ہو تو انڈیا کو متحد رکھا جائے لیکن وہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ بھی مناسب سمجھیں، خود لینے کے مجاز ہیں۔ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ برطانیہ اپنی کالونی سے عزت سے رخصت ہو۔
ملک بھر میں فسادات پریشان کن حد تک تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ بہار اور کلکتہ کے بعد اب دہلی، راولپنڈی اور ممبئی بھی فسادات کی لپیٹ میں تھے۔ ماونٹ بیٹن کا خیال تھا کہ دوسری جنگِ عظیم سے تباہ حال برطانیہ کے لئے اس خطے میں اب مزید امن و امان قائم رکھنا ممکن نہیں۔ اس کی سکت بھی نہیں۔ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ اگر علاقے کو فوری طور پر تقسیم کر کے مقامی قیادت کے حوالے نہ کیا گیا تو واپسی کا راستہ بھی نہ بچے۔ دانشمندی اس میں ہے کہ اس خطے کو جلد سے جلد چھوڑ دیا جائے۔
تمام فریقین سے مشکل مذاکرات کے بعد آزادی کے اصولوں پر اتفاق حاصل کر کے انڈیا کو تقسیم کرنے کے فیصلے کا اعلان 3 جون کو کر دیا گیا۔ ماوٗنٹ بیٹن کے اصرار پر آزادی ہند کا معاملہ انتہائی سرعت کے ساتھ طے پایا تھا لیکن یہ معمولی تبدیلی نہیں تھی۔ اس نے کئی مسائل کو جنم دیا۔ بہت سا کام بہت ہی مختصر وقت میں کئے جانا تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی تھا کہ ریاستوں کے حکمرانوں کے پاس اپنے مستقبل کے لئے فیصلہ لینے کا وقت بہت کم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن میں بادشاہ جارج ششم نے 18 جولائی 1947 کو آزادی ہند ایکٹ پر دستخط کر دئے۔ برٹش کا انڈیا چھوڑ جانا طے ہو گیا۔ پہلے اس خطے کو دو نئے ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ بھارت اور پاکستان۔ اس پر انڈیا کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور کانگریس نے اتفاق کر لیا تھا۔ اس کی منطق یہ طے پائی تھی کہ وہ علاقے جہاں برٹش براہِ راست کنٹرول ہو گا، وہاں مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان جبکہ باقی بھارت کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ وہ علاقے جو نوابی ریاستیں ہیں، وہاں یہ فیصلہ ریاست کے حکمران کی صوابدید ہو گی۔
دوسرا یہ کہ برٹش نے انڈیا کے نوابوں پر دباوٗ ڈالا کہ وہ جلد سے جلد فیصلہ کریں کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے ایک کے ساتھ ملنے کا طے کر لیں۔ اور اس کی وجہ تھی۔ ان ریاستوں کا برٹش سے معاہدہ تھا کہ ان کے خارجہ، دفاع اور مواصلات کے امور برٹش کے پاس ہوں گے۔ اب برٹش یہ تعلق مزید نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ یہ اس خطے سے ہر قسم کا تعلق توڑ کر مکمل انخلا تھا۔ ان ریاستوں کا مکمل آزاد حیثیت میں رہنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ انہیں ان معاملات میں اور معاشی طور پر بقا کے لئے نئی آزاد مملکتوں سے معاملہ کرنا ہی تھا۔ اگرچہ نوابوں اور راجوں کے لئے اپنی شخصی حکمرانی ترک کرنا بہت ناخوشگوار تھا لیکن اس دباوٗ پر اور عملی صورتحال دیکھتے ہوئے، جب تک برٹش کے جانے کا وقت آیا تو اول درجے کی تین ریاستوں کے سوا باق سب یا تو الحاق کا فیصلہ کر چکے تھے یا پھر اپنا ارادہ واضح کر چکے تھے۔
برٹش سیاسی سپورٹ ختم ہو جانے کے بعد انڈیا اور پاکستان نے بہت جلد ان ریاستوں کو مکمل طور پر ہی ختم کر دیا اور ان کے تمام امور اپنے پاس لے لئے۔ اس کے پس منظر میں تین بڑے فیکٹر تھے۔ آزادی کی وجہ سے اس خطے میں جوش اور ولولے کی ایک لہر پھیلی تھی۔ جمہور کی آزادی کے اس ریلے کے آگے یہ راجے کہن کے نقش تھے جو مٹ جانے تھے۔ علاقوں کے عوام کے لئے خودمختار ممالک، پاکستان اور بھارت، پرکشش تھے، ذاتی بادشاہتیں نہیں۔ دوسرا یہ کہ پاکستان اور بھارت طاقتور ممالک تھے۔ تیسرا یہ کہ ان ریاستوں میں اپنی جغرافیائی علیحدگی تھی۔ ان کا سیاسی تنہا وجود بھی ناممکن تھا اور یہ آپس میں اتحاد بھی نہیں کر سکتی تھیں۔
ان حکمرانوں نے اپنے تعاون کی قیمت وصول کی۔ اپنی جائیداد، ذاتی دولت اپنے پاس رکھنے کا سودا کیا۔ اس ریاست سے پچھلے سال وصول ہونے والی آمدنی کا دس فیصد سے زیادہ انہیں ذاتی طور پر دیا گیا۔ یہ بھاری رقم تھی۔ پاکستان اور انڈیا، دونوں نے اپنی اپنی ریاستوں کے ساتھ کیا۔ لالچ اور خوف کے ملاپ نے کام کر دکھایا اور نوابی ریاستیں تحلیل ہو گئیں۔ ولبھ بھائی پٹیل کے مطابق، “ادا کی جانے والی رقوم ان معاملات کو بغیر خون خرابے کے طے کرنے کے عوض معمولی قیمت تھی۔ خاموشی سے صدیوں پرانی یہ راج دہانیاں الٹا دی گئیں”۔
یہ اس قدر کامیابی سے ہوا کہ یومِ آزادی تک نوابی ریاستوں حاصل کرنے کی شطرنج کی اس بساط پر صرف تین ہی مہرے بچے تھے۔ پٹیل کے مطابق، بادشاہ (حیدرآباد)، وزیر (جموں و کشمیر) اور پیادہ (جوناگڑھ)۔
(جاری ہے)
ساتھ لگی تصویر میں وہ نقشہ ہے جو چوہدری رحمت علی کی 1942 کی کتاب “ملت اینڈ دی مشن” سے لیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان کے نام کی وجہ واضح ہو جاتی ہے۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post