Different types of glands in the human body.انسانی جسم میں مختلف قسم کے غدود ہیں۔

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

If a man looks carefully at the workmanship of God Almighty and the colors in the paintings of this world, which has been created immensely, then the existence of man, in addition to other living beings on this earth, also seem to be a question mark.

We will never be able to read the creatures that live on this earth even if we want to, because after reading them, our brain may give us the answer as to where this study started and where it reached.

In the world of science, when the scope of research has expanded and experts from different countries in different periods of time have spent some time on the word curiosity in the world of research, after studying human size and shape, the ancient secrets of the human body are hidden. By writing about the structure and functions of all these human organs in order to bring the facts to light, he attracted the whole world and made himself the axis of the world of science.

As the human body is a masterpiece of nature, it is also full of complexities where many minds cannot even think.

In all the organs of man today we will study a very small structure hidden inside the human brain which in the world of science is also called Pituitary Gland or according to some it is also called Hypophysis.

This gland is located in the lower part of our brain. This gland is located in the anterior inclination of the bone surface called the sphenoid below the brain. It has two lobes at the front and back in which the front is large and rectangular While the back is round. It is the most famous and essential for the survival of our body. It produces many types of hormones. Due to which it also affects the function of other glands. Hence it is also called Master Gland.

If you look at its size, it measures about one centimeter and weighs about 0.5 grams.

The bone in which it is embedded in our brain is called Sella Turcica in scientific terms. This gland is connected to another structure in the brain upwards which is commonly called Hypophysial Stalk.

In terms of function, this pituitary gland is divided into two distinct parts.

The anterior pituitary or adenohypophysis or sometimes called the neurohypophysis.

Between the anterior part and the posterior part there is a non-transmissible part called the Pars Intermedia, which is the idea of ​​gonadalists that this part Para Intermedia has no specific structure and function in the human body but some It is considered to be more and more important in living things.

When a human child is growing up in the darkness of the womb, the formation of this gland also begins, in which two parts of this pituitary gland appear from different types of sources or cells.

If we talk about the next pituitary, it takes its existence from this special type of box or bag-like structure known as Rathke's Pouch which comes into being from another structure called Pharyngeal Epithelium during growth. Later, the posterior part of this gland, the posterior pituitary part, also called the adenohypophysis, is made up of a few neural tissues, a protruding structure of the hypothalamus.

If we look at the front of this gland, we can see that it is derived from Epithelium and the same nature is certainly similar to that of Epithelioid Cells, while if we look at the back of the pituitary gland, it is called Neural Tissues or It is made up of nerve tissue, so it is clear that our posterior pituitary is made up of the same special cells Glial-Type that are present in this gland.


Interior pituitary

The anterior part of the pituitary gland is large and rectangular. The hormones in this part are related to the growth of the body and the reproductive organs. Its excess in small parts produces gigantic gigantism. The deficiency of this hormone causes the body to stop growing. If it occurs in childhood, then infatuation occurs. As a result, the condition of a person remains the same as in childhood even in old age. It releases the following hormones. ۔


Growth hormone

Growth Hormone Growth Hormone maintains the balance of growth in the body.


Thyrotrophic hormones

Also called TSH, it stimulates the adrenal glands to release hormones.


Adrenocortical Trophic Hormone

This hormone stimulates the adrenal gland to release hormones.


Lactose intolerance

This hormone produces milk in the breasts at the end of pregnancy.


Gonadotrophic hormone

This hormone forms the corpus luteum inside the ovary in women. And in men, it causes the follicles to descend into the scrotum.

6) Follicle Stimulating Hormone (FSH)


It controls the maturation of follicles in the ovaries in women and controls the production of sperm in men.



It changes the size of the ovary to form corpus luteum and prepares it for breast milk. It is also called ICH Interstitial-Cell Stimulating Hormone to control testosterone in men.


Prolactin hormone

It is one of the many hormones that help make breast milk.


Ter Pachutri

It releases two types of hormones.


A toxin hormone

It also powerfully stimulates the birth of the baby by helping the contraction of the Birth Canal in women.



This hormone regulates the amount of water in our body and ensures proper water retention.


انسانی جسم میں مختلف قسم کے غدود ہیں۔

اگر انسان خدائے برتر کی کاریگری اور ازحد تخلیق کی گئی اس دنیا کی مصوری میں بھرے ہوئے رنگوں کو بغور دیکھے تو اس روئے ارض پر دیگر جانداروں کے علاؤہ حضرت انسان کا وجود بھی ایک سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔
اس ارض پر بسنے والے جانداروں کو ہم چاہ کر بھی کبھی پورا نہیں پڑھ پائیں گے کیونکہ ان کو پڑھنے کے بعد ہمارا دماغ شاید یہ جواب دے ہمیں کہ یہ مطالعہ کہاں سے شروع کیا گیا اور کہاں پہنچ گیا۔
سائنس کی دنیا میں جب تحقیقات کی وسعت نے انگڑائی لی اور مختلف ادوار میں مختلف ممالک کے ماہرین نے تحقیق کی دنیا میں لفظ تجسس پر کچھ وقت صرف کر کے انسانی جسامت اور قدوکاہٹ کو بعد از مطالعہ کرنے کے بعد انسانی جسم کے معمر راز ان مخفی حقیقتوں کو منظر عام پر لانے کے لئے ان تمام انسانی اعضاء کی ساخت اور افعال کے بارے لکھ کر ساری دنیا کو اپنی طرف کھینچ کر خود کو سائنس کی دنیا کا محور ٹھہرا دیا۔
انسانی جسم قدرت کا شاہکار ہونے کے ساتھ یہ قدرے پیچیدگیوں سے بھی بھر پڑا ہے جہاں کئی اذہان کی تو سوچ ہی نہیں جا سکتی۔
انسان کے تمام اعضاء میں آج ہم انسانی دماغ کے اندر پوشیدہ ایک نہایت ہی چھوٹی ساخت کا مطالعہ کریں گے جس کو سائنس کی دنیا میں Pituitary Gland یا بعض کے نزدیک اس کو Hypophysis بھی کہا جاتا ہے۔
یہ گلینڈ یا غدود ہمارے دماغ میں نچلے حصے کی جانب واقع ہوتا ہے۔یہ غدود دماغ کے نیچے Sphenoid نامی ہڈی کی بلائی سطح کے اگلے نشیب میں ہوتا ہے۔اس میں آگے اور پیچھے دو لوتھڑے ہوتے ہیں جن میں اگلا بڑا اور مستطیل نما ہوتا ہے۔جبکہ پچھلا گول ہوتا ہے۔یہ ہمارے جسم کا سب سے مشہور اور بقائے حیات کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔جو کئی قسم کے ہارمونز کو پیدا کرتا ہے۔جس کی وجہ سے دوسرے غدودوں کی کاکردگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔لہذا اسے ماسٹر گلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔
اگر اس کی جسامت کو دیکھا جائے تو لگ بھگ ایک سینٹی میٹر اس کی پیمائش ہے اور تقریباً 0.5 گرام اس کا وزن درج کیا گیا ہے۔
ہمارے دماغ میں جس ہڈی کے اندر یہ دھنس کر پڑا ہوا ہے اس کو سائنسی اصطلاح میں Sella Turcica کہا جاتا ہے۔یہ غدود اوپر کی جانب دماغ میں موجود ایک اور ساخت سے جڑا ہوا ہے جسکو عام الفاظ میں Hypophysial Stalk کہا جاتا ہے۔
افعال کے اعتبار سے اس پچوٹری غدود کو دو واضع حصوں میں بانٹا گیا ہے۔
اگلا حصہ یا جسکو Anterior Pituitary یا Adenohypophysis کہتے ہیں یا اس کو بعض دفعہ Neurohypophysis بھی کہا جاتا ہے۔
اگلے حصے اور پچھلے حصے کے مابین ایک غیر ترسیلی حصہ بھی وجود رکھتا ہے جسکو Pars Intermedia کہا جاتا ہے جس کے بارے میں ماہر غدودیات کا کا نظریہ ہے کہ یہ حصہ Para Intermedia انسانی جسم میں کوئی خاص ساخت اور افعال کا حامل نہیں رہتا لیکن کچھ جانداروں میں یہ کافی اور اور اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔
جب کسی انسانی بچے کا وجود زیر پروان چڑھ رہا ہوتا ہے بطن کی تاریکیوں میں تو اس غدود کی بناوٹ بھی شروع رہتی ہے جس میں اس پچوٹری غدود کے دو حصے الگ الگ اقسام کے ذرائع یا خلیات سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔
اگر اگلے پچوٹری کی بات کی جائے تو یہ یہ خاص قسم کے خانے یا تھیلے نما ساخت سے اپنا وجود لیتا ہے جسکو Rathke's Pouch کے نام سے جانا جاتا ہے جو دوران بڑھوتری ایک اور Pharyngeal Epithelium نامی ساخت سے وجود میں آتا ہے۔اس کے بعد بعد اس غدود کا پچھلا حصہ Posterior Pituitary حصہ جسکو Adenohypophysis بھی کہا جاتا ہے چند ایک Neural Tissues یعنی عصبی بافتوں سے بنتا ہے جو کہ باہر کی طرف نکلا ہوا ایک ساخت نما Hypothalamus کی بڑھوتری ہے۔
اگر ہم اس غدود کے اگلے حصے کو دیکھے تو اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ Epithelium سے ماخوز ہے اور اسی فطرت بھی یقیناً Epithelioid Cells کے مشابہے ہوتی ہے جبکہ اگر پچوٹری غدود کے پچھلے حصے کا مطالعہ کیا جائے تو یہ Neural Tissues یا عصبی بافتوں سے بنا ہے لہذا یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ ہمارا Posterior Pituitary انہی خاص خلیات Glial-Type سے ملکر کر بنا ہے جو کہ اس غدود میں موجود ہیں۔
انٹرئیر پچوٹری
پچوٹری گلینڈ کا اگلا حصہ بڑ اور مستطیل نما ہوتا ہے۔اس حصہ کے ہارمونز کا تعلق جسم کی نشوونما اور اعضاء تولید سے ہے۔یہ چھوٹے حصوں میں اس کی زیادتی سے دیوقامت Gigantism پیدا ہوتا ہے۔یعنی ہڈیوں کے بڑھ جانے سے قد بہت لمبا ہوتا ہے اس ہارمونز کی کمی سے جسم بڑھنے سے رک جاتا ہے اگر یہ بچپن میں واقع ہو تو Infatuation پیدا ہوتا ہے۔جس سے انسان کی حالت بڑی عمر میں میں بھی بچپن کی سی رہتی ہے۔اس میں مندرجہ ذیل ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے۔
گروتھ ہارمون
گروتھ ہارمون Growth Hormone جسم میں نشوونما کا توازن برقرار رکھتا ہے۔
تھائیروٹروفک ہارمون
اسے ٹی_ایس_ایچ بھی کہتے ہیں یہ ایڈرینل گلینڈ کو تحریک دے کر اس سے ہارمون کا اخراج کراتا ہے۔
ایڈرینوکارٹری کو ٹروفک ہارمون
یہ ہارمون ایڈرینل گلینڈ کو تحریک دے کر اس سے ہارمون کا اخراج کراتا ہے۔
لیکٹو جینک ہارمون
یہ ہارمون حمل کے اختتام پر چھاتیوں میں دودھ پیدا کرتا ہے۔
گوناڈوٹروفک ہارمون
یہ ہارمون عورتوں میں اووری Ovary کے اندر کارپس لیوٹم Corpusluteum کو تشکیل دیتا ہے۔اور مردوں میں سکروٹم میں فوطوں کے اترنے کا باعث ہوتا ہے۔
6) Follicle Stimulating Hormone (FSH)
یہ عورتوں میں بیضہ دانی میں فولیکلز کے پختہ ہونے کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ مردوں میں سپرم کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے۔
یہ اووری کی جسامت میں کارپس لیوٹم کے بننے کے لیے تبدیلی لاتا ہے اور چھاتی دودھ کے لئے تیار کرتا ہے۔مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کو کنٹرول کرنے کے لئے آئی-سی-ایچ Interstitial-Cell Stimulating Hormone بھی کہتے ہیں.
پرولیکٹین ہارمون
یہ کئی ہارمون میں سے ایک ہے جو چھاتی میں دودھ پیدا کرنے میں معاون ہے۔
پوسٹیر پچوٹری
یہ دو قسم کے ہارمون خارج کرتا ہے۔
آ کسی ٹوسین ہارمون
یہ نام سے بھی Powerfully Stimulates یعنی عورتوں کے اندر Birth Canal کے سکڑاؤ میں معاون ہو کر بچے کی پیدائش کو آسان بناتا ہے۔
یہ ہارمون ہمارے جسم میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کر کے مناسب طور پر پانی کی بحالی کو یقینی بناتا ہے۔

------------تحریر محمد عامر (انڈوکرینالوجسٹ)------------

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post