پیاز اور لہسن(تھوم گنڈا): Onion and Garlic

Onion and Garlic :

It is used in almost every pot in the Indian subcontinent. In addition, onions have become an integral part of food all over the world, especially in salads. Scientifically, onions actually belong to the genus Allium, and the same genus includes garlic, green onions, shallot (garlic various types of onions), wild onions, and garlic. What are their benefits? Let's see

Onion Onion:

It is difficult to say where its history originated from. Experts believe that the main sources of their farming are the Central Asian countries (Tajikistan, Turkmenistan, etc.), Iran and Pakistan. Some believe it originated 5,000 years ago in China, while others attribute it to Egypt, where traces of onions have been found in mummy bodies and paintings. It reached Europe from Asian countries and was brought to America by the British who established colonies there before.

It is also mentioned in the Qur'an historically in the time of Moses (peace be upon him) when his people were saved from Pharaoh and their minds began to wander. They said: O Moses, we cannot wait for one meal. But also take off the vegetables that come out of the ground like onions (meaning).

China, India, and the United States are the largest producers of onions in the world, while Pakistan is the eighth largest.

Benefits of onions:

1 It contains a large amount of water 89% and also contains a large amount of natural electrolyte potassium. Therefore, onion is useful to make up for the lack of water in the body. Potassium helps balance muscle stiffness and high blood pressure.

2. It contains a large amount of phosphorus and calcium. Together they strengthen the bones of the body. Calcium also strengthens the immune system.

3 It contains a special chemical called quercitin which is an anti-inflammatory substance ie it reduces joint pain. It also lowers cholesterol, opens blood vessels and strengthens the heart. E. coli bacteria, which are often found in meat and vegetables, breaks down the skin and thus protects against cholera.

4. It contains Vitamin B2 which is good for eyes, B9 (folate) which thickens the blood and thus strengthens the hair.

5. It also normalizes high blood sugar.

Onion texture, smell and irritation:

* The outermost layer of onion is called tunic. The layers inside it are called scales that we eat. In fact, these layers are the onion leaves that take on such a fruity shape underground so that they can store energy inside them and use them in difficult times. Right in the middle of the onion is the bud that is grown.

* Onions contain sulfuric sulfonic acid which is excreted like tear gas when cut and activates the glands of our eyes which cause tears. It's like an onion is a tear gas bomb. However, science has also changed the genetic makeup to make onions that do not shed tears. Sulfur is also the cause of onion odor.

Cut it with the sharpest knife to avoid tears. A lower level will cut and less acid will be released, a blunt knife will make a deeper cut, more acid will be released, cut the onion in the fridge for 30 minutes or put something wide between the lips, such as bread. Will reach less acid.

Garlic Garlic:

As I read in the apple post, the apples come from the countries around the Tiancheng mountain range, such as China, Kyrgyzstan, Tajikistan, and so on. Garlic is also considered to be a product of the region and is also associated with Iran.

China produces 75% of the world's production, followed by Korea, India and the United States. Kpk is the most productive province in Pakistan.

Benefits of garlic:

Being a relative of onion, it has all the above benefits in a much better way than onion but it has some extra ingredients, anti-bacterial ingredients, cancer prevention and liver health. Ingredients are found. However, its use in large quantities is harmful.

Garlic odor:

In fact, the odor is caused by Allyl Mythille Sulfide, a chemical made from sulfur in it.

Garlic as an insecticide:

Coating it and mixing its juice with water is also used to repel aphids and other pests from plants. Thus it also acts as a natural insecticide. Where lizards and red bags come, cut it and throw it away, see how they run away.

How to grow garlic and onion:

* Put suitable soil in perforated pots / pans and plant onion seeds or small onions. Give water as required and get the onion ready in 90 to 120 days.

* Separate the garlic beans and apply it in the appropriate soil, give the betel as required and the thom is ready in seven to nine months. Both can be grown in the last months of winter and can also be grown in shoppers, plastic bottles.

Wild onions and wild garlic often sprout like grass and sometimes become a headache. They can also be used like ordinary garlic and onion. Just bring them close to your nose to reassure them that they smell like garlic and onions. The other two are Death Camas and Crow Poison, which look like wild onions but are poisonous. It is only possible to recognize it by its fragrance.

پیاز اور لہسن: Onion and Garlic (تھوم گنڈا)  
برصغیر پاک و ہند میں تقریباً ہر ہانڈی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ پوری دنیا میں ہی کھانوں میں خصوصاً سلاد میں پیاز ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ سائینسی لحاظ سے پیاز دراصل Allium جینس سے تعلق رکھتا ہے اور اسی جینس سے لہسن، سبز پیاز، Shallot(لہسن کئ طرح کا پیاز) جنگلی پیاز و تھوم شامل ہیں۔ 
ان کے کیا کیا فوائد ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
پیاز Onion:
اسکی تاریخ کی ابتدا کے بارے میں کہنا مشکل ہے کہ اصل اسکی کاشتکاری کہاں سے شروع ہوئی۔ ماہرین کے خیال میں ان کی کاشتکاری کا اصل ماخذسینٹرل ایشیائی ممالک( تاجکستان ترکمانستان وغیرہ)ایران اور پاکستان ہیں۔ کچھ کے نزدیک اسکی شروعات چین میں پانچ ہزار سال پہلے شروع ہوئی جبکہ بعض اس کا تعلق مصر سے جوڑتے جہاں Mummy کے جسموں سے اور انکی پینٹینگ سے پیاز کے آثار ملے ہیں۔ ایشیائی ممالک سے یہ یورپ پہنچا اور وہاں سے پہلے کالونی بنانے والے 
انگریزوں نے اسے امریکہ پہنچایا۔
قرآن میں بھی تاریخی لحاظ سے اس کا زکر موسیٰ علیہ سلام کے دور میں ملتا ہے جب انکی قوم نے فرعون سے نجات حاصل کرلی اور من و سلوی اترنے لگا تو انہوں
 نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کرسکتے خدا سے کہہ ہم پر وہ سبزیاں بھی اتار جو زمین سے نکلتی ہیں جیسے پیاز (مفہوم) ۔
دنیا میں سب سے زیادہ پیاز پیدا کرنے والے ممالک بالترتیب چین، انڈیا اور امریکہ ہیں جبکہ پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔

پیاز کے فوائد:
۰1اس میں بڑی مقدار میں پانی %89 ہوتا ہے اور ساتھ میں قدرتی Electrolyte پوٹاشئیم ایک بڑی مقدار میں موجود ہے۔ لہذا جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئیے پیاز فائدہ مند ہے۔ پوٹاشئیم پٹھوں کے اکڑائو اور ہائی بلڈ پریشر کو بیلنس کرنے میں مدد کرتا ہے۔
۰2 اس میں بڑی مقدار میں فاسفورس اور کیلشئیم موجود ہے۔ دونوں مل کر جسم کی ہڈیاں مضبوط کرتے ہیں۔ کیلشئیم قوت مدافعت کو بھی زبردست کرتا ہے۔
۰3 اس میں ایک خاص کیمیکل Quercitin پایا جاتا ہے جو ایک anti-inflammatory چیز ہے یعنی یہ جوڑوں کے درد کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کولیسٹرول کو کم کرکے خون کی نالیاں کھولتا ہے اور دل مضبوط کرتا ہے۔E.Coli بیکٹیریا جو اکثر گوشت اور سبزیوں سے ملتا ہے یہ اسکی کھال ادھیڑ کر ماڑ ڈالتا ہے اور اس طرح ہیضے سے بچاتا ہے۔
4. اس میں وٹامن بی2 موجود ہے جو آنکھوں کے لئیے اچھا ہے، B9 (folate)موجود ہے جو خون کو گاڑھا کرتا ہے اور اس طرح بالوں کو مضبوط بناتا ہے۔
5. یہ ہائی بلڈ شوگر کو بھی نارمل کرتا ہے۔
پیاز کی ساخت،بو اور جلن:
۰پیاز کی سب سے باہر والی خشک پرت (layer) کو Tunic کہتے ہیں۔ اسکے اندر والی پرتوں (layers) کو Scales کہتے ہیں جنہیں ہم کھاتے ہیں۔ دراصل یہ پرتیں، پیاز کے پتے ہی ہیں جو زیر زمین ایسی پھلدار شکل اختیار کرلیتے ہیں تاکہ اپنے اندر انرجی محفوظ کرلیں اور مشکل وقت میں استعمال کرسکیں۔ پیاز کے بالکل درمیان میں اسکا Bud ہوتا ہے جسے اگایا جاتا ہے۔
۰ پیاز میں سلفر سے بنا سلفیونک ایسڈ ہوتا ہے جو آنسو گیس کی طرح کاٹتے وقت خارج ہوتا ہے اور ہماری آنکھوں کے گلینڈز کو ایکٹو کرتا ہے جس سے آنسو نکلنے لگتے ہیں۔ گویا پیاز ایک آنسو گیس کا بم ہے۔ البتہ سائینس نے جینیٹک ردو بدل کرکے آنسو نہ دینے والے پیاز بھی بنالئیے ہیں۔ پیاز کی بدبو کی وجہ بھی سلفر ہی ہے۔
آنسووں سے بچنے کے لئیے اسے تیز ترین چھری سے کاٹیں۔ اس سے کم سطح پہ کٹ لگے گا اور ایسڈ کم خارج ہوگا، کند چھری زیادہ گہرہ کٹ لگائے گی زیادہ ایسڈ خارج ہوگا، پیاز کو تیس منٹ فریج میں رکھ کر کاٹیں یا ہونٹوں کے درمیان کوئی چوڑی چیز، جیسے بریڈ رکھیں۔اس سے آنکھوں تک کم ایسڈ پہنچے گا۔
لہسن Garlic:
جیسے سیبوں والی پوسٹ میں پڑھا تھا کہ سیب، تیان چنگ پہاڑی سلسلے کے اردگرد والے ممالک مثلاً چین، کرغستان، تاجکستان وغیرہ سے آئے ہیں۔ لہسن بھی اسی علاقے کی پیداوار مانا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایران سے بھی اس کا تعلق جوڑا جاتا ہے۔
دنیا کی کل پیداوار کا %75 چین پیدا کرتا ہے، اسکے بعد کوریا، بھارت اور امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پیداواری صوبہ Kpk ہے۔
لہسن کے فائدے:
پیاز کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اس میں اوپر والے تمام فائدے پیاز کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں موجود ہیں لیکن اس میں کچھ اضافی چیزیں، پیٹ کے برے بیکٹیریا کے خلاف لڑنے والے اجزا، کینسر سے بچائو اور جگر کی صحت بہتر کرنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔ تاہم بڑی مقدار میں اس کا استعمال نقصان دہ ہے۔
لہسن کی بدبو:
دراصل اس میں موجود سلفر سے بنے ایک کیمیکل مادے Allyl Mythille Sulfide کی وجہ سے یہ بدبو ہمارے منہ میں پیدا ہوتی ہے۔
لہسن بطور کیڑے مار دوا:
اس کو کوٹ کر اس کا جوس پانی میں ملا کر پودوں سے aphids اور دوسرے کیڑوں کو بھگانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ قدرتی Insecticide کے طور پر بھی کام آتا ہے۔ جہاں چھپکلیاں اور لال بیگ وغیرہ آتے ہوں وہاں اس کو کاٹ کر پھینک دیں، دیکھیں کیسے بھاگتے ہیں۔
لہسن اور پیاز اگانے کا طریقہ:
۰ سوراخ دار گملوں/کیاری میں مناسب مٹی ڈالیں اور پیاز کے بیج یا چھوٹے چھوٹے پیاز لگا دیں۔ پانی حسب ضرورت دیں اور نوے سے ایک سو بیس دنوں میں پیاز تیار پائیں۔
۰ لہسن کی پھلیاں علیحدہ کرکے مناسب مٹی میں لگائیں ، پان حسب ضرورت دیں اور سات سے نو مہینوں میں تھوم تیار۔ دونوں کی کاشت سردیوں کے آخری مہینوں میں ہوسکتی ہے اور انہیں شاپروں، پلاسٹک کی بوتلوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے۔
جنگلی پیاز اور جنگلی لہسن اکثر گھاس کی طرح جگہ جگہ اگ آتے ہیں اور بعض اوقات درد سر بن جاتے ہیں۔ ان کو بھی عام لہسن پیاز کی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ بس انہیں ناک کے قریب لا کر تسلی کرلیں کہ ان میں لہسن اور پیاز کی بو آتی ہے۔ دو اور پودے Death Camas اور Crow Poison جنگلی پیاز کی طرح نظر آنے والے پودے ہیں لیکن زہر ہیں۔ صرف خوشبو سے ہی پہچان ممکن ہے بہتر یہی ہے کھانے میں احتیاط کریں۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post