بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا دوسرا مرحلہ The 2nd phase of children's frustration and training

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 


بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا دوسرا مرحلہ
میاں بیوی کا باہمی تعلق جتنا مضبوط اور عزت و محبت پر مشتمل ہوگا وہ اتنا ہی ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ۔ میاں بیوی کا باہمی تعلق اگر اچھا ہو تو یہ تعلق نسلیں سنوار دیتا ہے اور اگر یہ تعلق ناچاقیوں اور لڑائی جھگڑوں پر مشتمل ہو تو یہ تعلق نسلیں بگاڑ دیتا ہے ۔ بچوں کی بہترین تربیت کیلئے والدین کا خود تربیت یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے ۔ اپنے تعلیمی دور میں مجھے ایک ہی استاد محترم کا جملہ خوب صورت لگا تھا جو آج تک میری ڈائری پر لکھا ہوا ہے ۔ ایم فل کیمسٹری کے دوران ایک دن سر کہنے لگے " اچھے کیمسٹ چاہے نہ بن سکو لیکن اچھے باپ اور اچھی مائیں ضرور بن جانا کیونکہ کیمسٹ کے ہاتھ میں تو صرف ایک طبقہ ہوگا لیکن ایک باپ اور ایک ماں کے ہاتھ میں ایک پوری نسل ہوتی ہے " ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک جوڑے کا میاں بیوی بن جانے کے بعد علیحدہ ہو جانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک کشتی کے بنا سمندر کو پار کرنا کیونکہ اسرائیل اس بات کو مانتا ہے کہ ایک بہترین نسل کیلئے میاں بیوی کا مضبوط تعلق بہت ضروری ہے اور ان کی علیحدگی دو بچوں نہیں بلکہ دو نسلوں کو تباہ کر دیتی ہے اور اسرائیل ایک بھی ایسا بچہ اپنی ریاست میں جنم نہیں دے سکتا جو ملک و قوم کی تباہی کا سبب بنے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل میں جب ایک عورت حاملہ ہوتی ہے تو آخری تین ماہ اس حاملہ عورت کو ایک ٹریننگ سنٹر میں بلایا جاتا ہے ۔ یہاں اس عورت کو ریاضی کی کچھ مشقیں حل کرنے کیلئے دی جاتی ہیں اور ہوم ورک میں کچھ ایسی مشقیں دی جاتی ہیں جسے رات کو میاں بیوی ساتھ بیٹھ کر حل کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ تاکہ بچہ ذہین پیدا ہو ۔۔
ہمارے معاشرے میں کیا ہوتا ہے ؟
ایک عورت کے پورے نو مہینے لڑائی جھگڑوں، طنز اور گالی گلوچ کے ماحول میں گزرتے ہیں ۔ نہ مائیں برداشت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور نہ باپ اپنی نسل کو لے کر سنجیدہ ہیں ۔ اس اعتبار سے ہمارا تو بچہ اس دنیا میں پیدا ہی فرسٹریشن اور نفسیاتی مسائل کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل میں آخری تین ماہ ایک حاملہ عورت اپنے مذہبی مطالعے کو وسیع کر دیتی ہے ؟ اس کی وجہ ؟ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ مذہبی اور مہذب پیدا ہو ۔۔
ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟
ایک ماں رانجھا رانجھا کر دی ۔۔۔
دلہن ہم لے جائیں گے ۔
میرے پاس تم ہو ۔۔
یہ سب دیکھنے میں مصروف ہوتی ہے یا پھر فضول ناول کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہوتی ہے ۔ یہ ناول آپ کی نفسیات پر بڑے گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ جب آپ اس ناول کو پڑھنے کے بعد واپس حقیقت کی دنیا میں آتے ہیں تو آپ کا چیخ و پکار کرنے اور اپنی کھال نوچ لینے کو جی چاہتا ہے ۔ جو زندگی آپ کو ان ناول میں دکھائی جاتی ہے اس کا دور دور تک حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ نتائج ؟ آپ نے ناول میں ایک امیر جاگیردار شہزادہ یا ایک خوب صورت نازک شہزادی پڑھی تھی جو آپ کو میسر نہیں ہیں ۔ اس نتیجے میں آپ لوگوں کے باہمی تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور میاں بیوی کے ساتھ ساتھ ایک نسل کی تباہی کا آغاز ہو جاتا ہے ۔۔۔
میرے ایک دوست جو اس وقت ایک اعلی عہدے پر فائز ہیں مجھے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ " میں نے کبھی اپنے والدین کو جھگڑا کرتے نہیں دیکھا ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے درمیان جھگڑا نہیں ہوتا تھا ۔ درحقیقت والد صاحب کی عادت تھی کی جب وہ غصے میں گھر آتے تھے تو بچوں کو بیٹھا دیکھ کر مسکرا دیتے تھے اور والدہ کو کہتے آپ کمرے میں آئیں ۔ آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔ کمرے میں کیا ہوتا تھا ہمیں اس بات کا کبھی علم نہیں ہوا کیونکہ کمرے سے باہر کبھی آواز ہی نہیں آئی ۔ جب کمرے سے باہر آتے تو دونوں مسکراتے ہوئے واپس آتے تھے۔ والد صاحب ہماری تربیت کر رہے تھے جو بڑے ہو کر سمجھ آئی کہ باہمی جھگڑا ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہے ۔ ان کے مطابق وہ بھی اب اپنے والد صاحب کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی خوب صورت بھی ہے اور پر سکون بھی " ۔
جن والدین کا باہمی تعلق محبت اور عزت پر مشتمل ہو آپ لوگ ان والدین کے بچوں کو تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر میدان میں آگے پائیں گے ۔۔ میرے تایا ابو ایک بہترین جملہ کہتے ہیں " ایک شوہر اگر بچوں کے سامنے بیوی کو عزت نہ دے تو اولاد کبھی اپنی ماں کی عزت نہیں کرتی اور اگر بیوی اپنے شوہر کو عزت نہ دے تو اولاد ایسے والدین کیلئے باغی ہو جاتی ہے " ۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟ شوہر بچوں کے سامنے بیوی پر ہاتھ اٹھاتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں اور بیوی اپنے بچوں کے سامنے شوہر کے آگے زبان چلاتی ہے ۔۔ پھر آپ چاہتے ہیں کہ اولاد کی تربیت اچھی ہو تو معذرت کے ساتھ آم کی گٹھلی ڈال کر ساری رات سجدے میں یہ دعا مانگی جائے کہ سیب کا درخت لگے تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔ درخت وہی لگتا ہے جس کا بیج بویا گیا ہو ۔۔۔ق
ایک اور بات جو اہمیت کی حامل ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کا جوڑا اس کے ذہنی اور جسمانی تسکین کیلئے بنایا ہے ۔ یہ ذہنی اور جسمانی تسکین ایک بیوی کیلئے بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنا ایک شوہر کیلئے ۔ آپ اگر ایک دوسرے کے ذہنی اور جسمانی سکون کا سبب نہیں بن رہے تو آپ کبھی اچھے میاں بیوی ثابت نہیں ہو سکتے تو اچھے والدین ثابت ہونا دور کی بات ہے ۔ ایسا میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ یہ ذہنی اور جسمانی تسکین آپ کو تر و تازہ رکھتی ہے ۔ آپ اپنے آپ سے مطمئن ہوتے ہیں اور جو اپنے آپ سے مطمئن ہو وہی دوسروں کیلئے مشعل راہ بن سکتا ہے ۔ آپ جتنے پر سکون ہوں گے اتنا ہی اپنی نسل کی تربیت اور بہتری پر توجہ دیں گے ۔۔
والدین کیلئے ضروری ہے کہ نوالا سونے کا کھلائیں مگر نظر شیر کی رکھیں..
آج کل والدین یا تو بچے کی ہر خواہش پوری کر دیتے ہیں... یا کوئی بھی خواہش پوری نہیں کرتے...
کچھ والدین بچوں کی وہ بات پوری کر دیتے ہیں جو پورا کرنا ضروری نہیں... اور جو پوری کرنا ضروری ہیں ان پر لاپروائی کر جاتے ہیں....
بچوں پر بہت زیادہ بوجھ اور وزن ڈال دینا بھی درست نہیں اور مکمل آزادی دے دینا بھی غلط ہے...
اعتدال اور میانہ روی بہت ضروری ہے..
بچوں سے توقعات وابستہ ضرور کریں مگر ان توقعات پر ہر صورت پورا اترنے کی توقع مت رکھیں....آپ اپنے چھ سال کے بچے سے بیس سال والی توقعات رکھنے لگ جاتے ہیں ۔۔
بچہ تو ہے ہی سوالات کا ایک سمندر... اور پیار کی بھی ایک حد ہے... سختی کا بھی ایک وقت ہے....
بچوں کی تو ہم سننا نہیں چاہتے... مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ بچہ ہماری ہر بات سنے اور عمل بھی کرے...
آپ اپنے بچے کو غلط وقت پر نصیحت کرتے ہیں ۔ جب آپ کا بچہ کوئی شرارت کرتا ہے یا غصے میں ہوتا ہے آپ تبھی اس پر جملوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں ۔ غصے کی حالت میں انسان صرف سنانا چاہتا ہے دوسرے کی سننا نہیں چاہتا ۔ جب وہ سننے کو تیار نہیں تو عمل کیسے کرے گا ؟ نصیحت ہمیشہ ایسے وقت پر کریں جب آپ کا بچہ خوشگوار موڈ میں ہو کیونکہ یہ وہ حالت ہے جس میں بچہ والدین کی بات توجہ سے سنتا ہے اور عمل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔۔ ایک مختصر سا فارمولا یہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی عادت کو اپنی عملی زندگی میں شامل کر لیں تو آپ کو نصیحت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ کیونکہ بچے والدین کی عملی زندگی سے سیکھتے ہیں ورنہ تربیت پر مبنی جملوں سے تو بچوں کی کتب بھری پڑی ہیں ۔ جو عادت آپ کی عملی زندگی میں شامل نہ ہو اس عمل یا عادت پر مبنی ہر نصیحت رائیگاں جاتی ہے ۔۔ و
آج کا بچہ اپنی عزت نفس کو لے کر بہت زیادہ سنجیدہ ہے ۔ اپنے بچوں کو ان کے دوستوں یا اپنے رشتے داروں کے سامنے ڈانٹنے سے پرہیز کیا کریں ۔ یاد رکھیں کہ عزت نفس ایک مزدور کیلئے بھی اتنی اہم ہے جتنی وزیراعظم کیلئے ٹھیک اسی طرح اولاد اور والدین کے سٹیٹس ، مقام اور مرتبے میں تو واضح فرق ہے لیکن عزت نفس ایک دو سالہ بچے کیلئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ایک ساٹھ سالہ بزرگ کیلئے ۔۔۔۔س
ہم بچوں کو نصیحت کرنے اور کتابیں پڑھانے پر زور دے رہے ہیں جبکہ بچہ ہم سے عملی اور تجرباتی کی توقعات رکھتا ہے....
جھوٹ نہیں بولنا.... تعلیم سو فیصد درست.
مگر یہ کہنے کے بعد والدین اور اساتذہ اسی بچے کے سامنے سارا دن جھوٹ بول رہے ہیں.. تربیت زیرو...
یہاں بچہ کشمکش میں مبتلا ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟
کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا؟
جھوٹ بولنا غلط ہے مگر بولا جا رہا ہے، کتاب کہہ رہی ہے جھوٹ نہیں بولنا، مگر بولا جا رہا ہے.
بچہ اب اس نتیجے پر پہنچا کہ "جھوٹ بولنا غلط ہے" یہ صرف پڑھنے اور نصیحت کرنے کی حد تک ہی ہے اور جھوٹ بولتے رہنے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے.
تو اب بچہ بھی پڑھ رہا ہے کہ جھوٹ بولنا غلط ہے مگر کتاب اور بات یا نصیحت کی حد تک....یہ
ہماری تعلیم و تربیت میں ہی تضاد ہے، ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے...
تعلیم سو فیصد درست دی جا رہی ہے مگر تربیت سو فیصد غلط دی جا رہی ہے..
آپ بچوں کو جس چیز سے روکیں گے بچہ اسی چیز سے دور ہونے لگے گا، خوف پیدا ہوگا...
اور ہمارے گھروں میں عموماً یہی کچھ ہو رہا ہے...
بچہ اگر کم عمری میں کتاب کو چھو لے تو ایک دم سے چیخ کر بچے کو روکا جاتا ہے تھپڑ بھی لگا دیا جاتا ہے...
بچے کو یہاں محسوس ہوتا ہے کہ بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے... جو دوبارہ نہیں کرنی... بچہ اب کتاب سے خوف کھانے لگتا ہے....
کتابوں سے نفرت کھانے لگتا ہے...م
ہم کہنا شروع کر دیتے ہیں کے بیٹا آپ نے کتاب سیدھی نہیں پکڑی ہوئی اسے سیدھا کرو... ایسے نہیں پکڑتے ویسے نہیں پکڑتے.......
بچہ یہاں بیزار ہو جاتا ہے کہ کیا آفت ہے یہ کتاب بھی...
جبکہ کھلونوں سے کھیلتے وقت آپ بچوں کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرتے... آپ بڑے پیار سے کھیلتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں.... ٹوٹ جانے پر آپ نیا کھلونا خرید کر دیتے ہیں...
نتائج یہ نکلتے ہیں کہ آپ کا بچہ کھلونے میں ہی دلچسپی لینے لگتا ہے...
اگر کتاب بچہ پھاڑ دے تو کیا کتاب دوسری خرید کر نہیں دے سکتے؟
 
نوٹ :  پنی رائے کا اظہار کر کے رہنمائی بھی کر سکتے ہیں ۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post