بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا پانچواں مرحلہ The 5th phase of children's frustration and training

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 


بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا پانچواں مرحلہ

1- ڈائری
اپنے بچوں کو ایک عدد ڈائری ضرور لے کر دیں ۔ ایک بات واضح کر دوں کہ میں سکول ڈائری کی نہیں بلکہ پرسنل ڈائری کی بات کر رہا ہوں ۔ بچہ اگر چھوٹا ہے تو اسے کلر فل ڈائری لے کر دیں اور اگر بچہ میٹرک تک پہنچ چکا ہے تو اسے ایک اچھی اور بڑی ڈائری لے کر دیں ۔
آپ کا چھوٹا بچہ اس ڈائری پر لطیفے لکھے یا اشعار آپ اسے منع مت کریں ۔ لکھنے دیں ۔ ڈائری لکھنے سے آپ کے بچے میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔ creative writing ہمیشہ ان بچوں میں پیدا ہوتی ہے جو اپنی مرضی سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ڈائری میں لکھتے ہیں ۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے بچہ ان بکھرے حروف کو یکجا کرنے کا ہنر سیکھ جاتا ہے ۔ ایک ڈائری کو جب بچہ اپنی مرضی کا مواد لکھ کر ختم کر دے تو اب آپ اس کی ڈائری کا جائزہ لیں ۔ اس نے لطیفے لکھے یا کچھ بھی اس پر اس کی حوصلہ افزائی کریں لیکن ساتھ ہی ایک اور ڈائری دے کر کہیں کہ بیٹا لطیفے اور اشعار تو بہت ہو گئے ہیں اب آپ کے پاس ۔
اب اگر کچھ دوستوں کا حال احوال ، سکول میں ہونے والے معاملات ، آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات، آپ کے خواب ، آپ کے مقاصد ، ماماں اور بابا کی آپ کو کون سی عادات اچھی لگتی ہیں اور کس بات سے اختلاف ہے ۔۔ اگر آپ اپنی نئی ڈائری میں یہ سب لکھنے کی کوشش کریں تو کیسا رہے گا ؟ ان کو بتائیں کے جب آپ بڑے ہوں گے تو آپ کو اپنی بچپن کی ڈائری پڑھ کر بہت مزہ آیا کرے گا ۔
یہ مشورہ دے کر فیصلہ بچے پر چھوڑ دیں ۔ اس طرح ہر نئی ڈائری جب آپ خرید کر دیں گے تو آپ کو بہت ساری تبدیلیاں خود ہی نظر آنے لگیں گی ۔ w
2- پینٹنگ ، آرٹ
اپنے بچوں کو پینٹنگ کا سامان بھی خرید کر دیں ۔ چارٹس کلر بورڈ وغیرہ ۔۔ اب یہاں بھی اپنے مشورے دینے سے پرہیز کریں ۔ بچہ ٹیڑھی ترچھی قطاریں کھینچے، کارٹون بنائے ، گڑیا کا گھر یا پھر کوئی سمندر کا منظر ۔ وہ جو بھی کرے اسے کرنے دیں ۔ جیسا بھی کرے اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔ یہ ایکٹیویٹی بھی آپ کے بچوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا کرتی ہے ۔ a
ایک لمحے کیلئے اپنے بچپن کو یاد کریں ذرا ۔۔ ؟ بچپن میں ہم لوگ کتنی الٹی سیدھی حرکتیں کرتے تھے ۔ ان حرکتوں میں درحقیقت ہمارا پیشن چھپا ہوتا تھا ۔ بس توجہ نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے بہت سارے پیشن بچپن میں ہی اپنی موت آپ مر گئے تھے لیکن اللہ کا واسطہ ہے کہ آپ لوگ اپنے بچوں کے پیشن کا اس طریقے سے قتل مت کیجئے گا ۔
آپ کے بچوں کیلئے آرٹ ایک فن اور گیم کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اس کے لاتعداد فوائد ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔۔س
اس طرح آپ کے بچوں میں creativity پیدا ہوتی ہے ۔ وہ خود سے لکھنے اور سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔
آپ کے بچوں میں مشاہدہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔ اس ایکٹیویٹی کے ہر حصے میں بچے کو سوچنا پڑتا ہے ۔ اب کون سا کلر کروں ؟ اب کون سا ؟ یہاں کون سا کلر اچھا لگے گا کون سا بہتر رہے گا ۔۔
Problem solving
اس عمل سے آپ کے بچوں کی فیصلہ کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی اہلیت بڑھ جاتی ہے ۔ یہ بچے کیلئے تو ایک فن ہے لیکن درحقیقت بہت سی صلاحیتوں کا آغاز اسی فن سے ہو جاتا ہے ۔ مختلف قطاریں ۔ مختلف کلر ۔ مختلف چیزوں کو منظم کرنے سے وہ منصوبہ بنانا سیکھ جاتا ہے ۔ اس دوران پیش آنے والے مسائل کا اپنے طور پر حل تلاش کرتا ہے جس کی بدولت اس کی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت بڑھ جاتی ہے ۔۔m
ریاضی میں کچھ گراف یا چارٹ وغیرہ اور سائنس میں کچھ ڈائیا گرامز ہوتی ہیں جن کی مدد سے پورے ٹاپک کو سمجھنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے لیکن ایسا صرف ان بچوں کیلئے ہے جو ان کو سمجھ سکتے ہیں ۔ تو آرٹ آپ کے بچوں میں یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔۔
اس ایکٹیویٹی سے آپ کا بچہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اپنی چیزوں کو مینیج کرنا سیکھ جاتا ہے ۔ کلر کہاں رکھنے ہیں ۔ کلر کو مکس کیسے کرنا ہے ۔ کن چیزوں کو کہاں رکھنے سے آرٹ کرنے میں آسانی ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ نظم و ضبط اس بچے کی عادات کا حصہ بن جاتا ہے ۔ آرٹ کرنے والے بچے اپنی چیزوں کو ہمیشہ بڑے منظم انداز میں رکھتے ہیں ۔
یہ ایکٹیویٹی آپ کے بچوں کے سٹریس کو ختم کرتی ہے ۔ وہ اپنے اندر کا بہت کچھ ایک چارٹ پر نکال کر خود ہلکا ہو جاتا ہے ۔۔۔
3- محبت کا درس ۔
یہ جو آپ اپنے گھروں میں دوسرے رشتے داروں اور محلے داروں کی سارا دن برائیاں کرتے ہیں ۔ آپ کا یہ عمل آپ کے گھر میں نفرت کو جنم دے کر اس ماحول کو ناسازگار بنا دیتا ہے ۔ آپ کا بچہ منفی سوچ کے اثرات تلے دب کر اپنی بہت ساری مثبت صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ آپ اپنے گھر میں ان لوگوں کی گفتگو کریں جو اچھے اخلاق و عادات کے مالک ہیں ۔ جو والدین کے فرمانبردار ہیں ۔ جو بڑوں کا احترام کرتے ہیں ۔ جو انسانیت کی فلاح کیلئے کام کر رہے ہیں ۔
میری نظر میں " ہمارے گھر میں ہونے والی اچھی گفتگو چمن کے پھولوں کی خوشبو کی مانند ہے ۔ جس سے اس گلشن میں آنے والوں کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد سے گزرنے والے لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں "
ورنہ منفی گفتگو مرے ہوئے جانور کی بدبو کے جیسی ہے جس سے سارے ہی خار کھاتے ہیں ۔۔
4- غلط کام پر سپورٹ مت کریں
آپ ایک بہت بڑی غلطی کر جاتے ہیں جب آپ اپنے بچے کو بلا وجہ یا غلط بات پر سپورٹ کرتے ہیں ۔ اس کے خطرناک نتائج یہ نکلتے ہیں کہ آپ کا بچہ صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ نہیں کر پاتا ۔ اسے لگتا ہے جو اس نے کیا وہ ٹھیک تھا ۔ اس طرح بچوں میں غلطی پر شرمندہ ہونے کی بجائے ڈھیٹ بن کر ڈٹ جانے کی عادت جنم لیتی ہے ۔ غلطی کو درست کرنے کیلئے پہلے غلطی کو تسلیم کرنا شرط ہے لیکن آپ کی یہ سپورٹ آپ کے بچے سے غلطی ماننے والی صلاحیت یا احساس کو چھین لیتی ہے ۔
میرا بچہ جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ میرا بچہ ایسا نہیں کر سکتا ۔ اس طرح کے جملوں کا استعمال مت کریں ۔ بچے کو بتائیں کہ وہ انسان ہے اور غلطی انسان کرتے ہیں فرشتے نہیں لیکن بہترین انسان وہ ہے جو غلطی کو تسلیم کر کے بہتر بنانے کی کوشش کرے ۔۔
بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا ۔ ایک مرتبہ تائی امی کے کچھ پیسے چوری ہو گئے ۔ میں شاید وہاں سے گزرا تھا ۔ والدہ تک بات پہنچی تو والدہ مجھے تائی امی کے پاس لے گئیں اور مجھ سے پوچھا کہ وسیم بیٹا تم نے لیے ہیں پیسے ؟
امی آپ کو کیا لگتا ہے ؟ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں ؟
بیٹا میرا مطلب ہے کہ ہو سکتا ہے تمہیں ضرورت ہو ۔ میں اس وجہ سے پوچھ رہی ہوں کہ اگر تم نے لیے تو میں تمہاری تائی امی کو واپس کر دیتی ہوں ۔۔
آج سمجھ آتی ہے کہ یہ طریقہ تربیت کا تھا ۔ میری والدہ کو مجھ پر یقین تھا لیکن ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا ۔۔ وہ جانتی تھیں کہ بچے غلطی کر ہی دیتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے غلطی ہو گئی ہو ۔ آج کل تو مائیں مارنے کو آ جاتی ہیں کہ تمہاری جرآت کیسے ہوئی میرے بیٹے پر الزام لگانے کی ؟
اعجاز بھٹی صاحب نے ایک بہترین نصیحت کی تھی " کبھی بھی کسی کا غلط کام میں ساتھ مت دینا ورنہ مستقبل میں وہی تمہارا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوگا خواہ وہ اولاد ہو ، بیوی یا شوہر ہو ، بہن بھائی ہوں یا پھر دوست " ۔۔۔
5- اپنے بچوں کی کاونسلنگ خود کریں ۔
ایک کاونسلر یا ماہر نفسیات spunge کا کردار ادا کرتا ہے یعنی وہ دوسروں کے درد اور تکالیف کو سن کر جذب کرتا ہے جس کے نتیجے میں آنے والا شخص خود کو اچھا اور بہتر محسوس کرنے لگتا ہے ۔ یہ کردار اپنے بچوں کیلئے والدین سے زیادہ بہتر کوئی ادا نہیں کر سکتا ۔بچے کو بس سننے والے کان اور تسلی بخش لہجہ مہیا کر دیں تو آپ بہترین کاونسلر کا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ بچوں میں پیدا ہونے والے ڈپریشن میں ایک بڑا حصہ والدین کا رویہ ہے ۔ اس رویے کو درست کر لیں ۔بہترین دوست بن جائیں جو غلطی پر ڈانٹنے کی بجائے اچھے اور برے کا فرق سمجھاتے ہیں ۔ مثبت اور منفی نتائج سے آگاہ کرتے ہیں ۔۔ ۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ آرام و سکون الگ الگ ہیں ۔ آرام کا تعلق جسم سے اور سکون کا تعلق روح سے ہے ۔ اپنے بچوں کو سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا درس بھی دیں ۔ سہولیات آپ کے بچوں کو آرام تو مہیا کر سکتی ہیں لیکن سکون کبھی مہیا نہیں کر سکتیں ۔ سکون کیلیے روح کو خوش کرنا پڑتا ہے ۔ کم عمری سے ہی عادت ڈالیں ۔۔
کسی کو پانی کا گلاس بھر دینے سے ۔
راہ سے پتھر ہٹا دینے سے ۔
عبادت کرنے سے ۔
ہر اچھا کام کرنے سے ۔
بزرگوں کا ادب کرنے سے ۔
کسی کی مدد کرنے سے ۔
اپنی چیزیں شیئر کرنے سے ۔
پیار سے بات کرنے سے ۔
سونے اور جاگنے کی دعا پڑھنے سے ۔
بچوں کو بتائیں کہ ان چھوٹے چھوٹے عوامل سے ان کی روح کو سکون ملے گا ۔۔
بڑے گھر ، بڑی گاڑی والوں کو چھوڑ کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیں جو بڑھیا سے اپنی برائی بھی سن رہے تھے اور اس کا سامان لے جانے میں مدد بھی کر رہے تھے ۔
ابو بکر صدیق رضی اللہ کا بتائیں جو اپنے گھر کا سارا سامان سمیٹ کر حاضر ہو گئے تھے ۔
حضرت علی رضی اللہ کا بتائیں جن کے نام کا لنگر چلتا تھا وہ خود سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے ہوتے تھے ۔۔۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ کی سخاوت کا بتائیں ۔ بتائیں کہ سخی انسان خدا کا دوست ہوتا ہے ۔۔
عبد الستار ایدھی کا بتائیں جو دوسروں کیلیے بھکاری بن گئے تھے ۔۔
بتائیں کہ بیٹا زندگی ایک امتحان ہے ۔ اور ساری بات ہی روح کو خوش کرنے کی ہے ۔
بچوں کے ساتھ ساتھ خود بھی ان تمام باتوں پر عمل کریں تاکہ بچے کو عمل کرنے کی وجہ مل جائے ۔
طویل لکھنے پر معذرت چاہتا ہوں لیکن جس طرح دریا کو کوزے میں بند کرنا ہر لکھاری کے بس کی بات نہیں ٹھیک اسی طرح کوزے میں چھپا دریا نکال لینا ہر قاری کے بس کی بات نہیں ۔
مجھے سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔۔۔
 
نوٹ :   آپ لوگ اپنی رائے کا اظہار کر کے رہنمائی بھی کر سکتے ہیں ۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post