بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا چوتھا مرحلہ The 4th phase of children's frustration and training

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 


 بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا چوتھا مرحلہ

سٹڈی روم
کوشش کریں کہ اپنے بچوں کیلئے ایک عدد چھوٹے سے سٹڈی روم کا انعقاد ضرور کریں ۔ اگر آپ کا گھر چھوٹا ہے تو کوئی بات نہیں ۔ گھر کے ہال یا برآمدے میں کوئی جگہ بچوں کیلئے فکس کر دیں ۔ اس جگہ کو تھوڑا بہت ڈیکوریٹ کریں اور بچوں کی تعداد اور عمر کے مطابق کرسیوں اور ایک عدد میز کا انتظام کر دیں ۔ ایک چھوٹی سی شیلف بیگ اور کتب رکھنے کیلئے بنوا دیں ۔ ہزاروں روپے بیڈ روم یا دوسری آرائش پر بھی تو خرچ کرتے ہیں تو چند ہزار روپے ان کیلئے کر دیں ۔ ان کی عمر کے مطابق آپ کو کتاب گھر سے وائٹ بورڈ مل جائیں گے وہ خرید دیں اور جادو دیکھیں کہ آپ کے بچے کی دلچسپی کس قدر بڑھ جائے گی ۔ بچے کو پڑھنے کیلئے آپ کا بڑا بیڈ نہیں بلکہ اپنی عمر کے مطابق ماحول پر مشتمل ایک چھوٹی سی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔و
ٹائم مینیجمنٹ ۔
اپنے بچوں کو وقت کی پابندی کرنا سکھائیں ۔ وقت کی پابندی بہترین عادت ہے جو شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بچے کو ذمہ دار بھی بناتی ہے ۔ اس طرح بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتی ہے ۔ وقت مقرر کر کے دیں ۔ مطالعے کا وقت ، کھانے کا وقت ، سونے اور جاگنے کا وقت ، کھیلنے کا وقت ۔ اپنے بچوں کو مشین مت بنائیں ۔ کیا گدھے کی طرح سارا دن سکول پھر ٹیوشن ، پھر ہوم ٹیوشن ، پھر مدرسہ ۔ سارا دن اس کا سٹریس میں گزر جاتا ہے ۔ نمبروں کی دوڑ میں بھاگنے والے گدھے یا طوطے پیدا مت کریں ۔ س
بچوں کو کھیلنے کا وقت لازمی دیں ۔ آپ بچوں کو ڈانٹنے لگ جاتے ہیں کہ سکول کا کام کرو ۔۔ بھئی وقت مقرر کر دیں ۔ دن میں کم از کم ایک گھنٹہ کھیلنے کا ضرور دیں اور ایک گھنٹہ چھوٹی سی پکنک کا ۔ گھر سے باہر کسی پارک میں جا سکتے ہیں تو بہترین ہوگا ورنہ اپنے گھر کے صحن یا کمرے میں روزانہ ایک گھنٹے کی تفریح ضرور کریں ۔ اس دوران بچوں کے ساتھ بچے بن جائیں ۔۔ یقین جانیں آپ کا بچہ انسان بنے گا ۔ مطمئن رہے گا ۔ یہ بات میاں بیوی دونوں کیلئے ہے ۔ م
Say sorry
بچوں کے سامنے انا کا مظاہرہ مت کریں ۔ آپ بچوں کو سوری کرنے کا کہتے ہیں لیکن کیا آپ خود اپنے بچوں سے سوری کرتے ہیں ؟ نہیں کیونکہ آپ کا تو انا کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔۔ اگر آپ سے غلطی ہو گئی ہے ۔ بلا وجہ ڈانٹ دیا ہے یا بچہ ہرٹ ہوا ہے تو آپ معذرت کر لیا کریں ۔ اس کا کوئی نقصان نہیں بلکہ یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچے کو سبق ملتا ہے کہ زندگی میں جب کبھی غلطی ہو تو معافی مانگ لینا ضروری ہے اور معذرت کرتے وقت چھوٹے بڑے کا فرق نہیں رکھنا ۔ اس طرح آپ کے بچوں کی گھر اور باہر عادت بن جاتی ہے کہ اپنی غلطی پر احساس ہونے لگتا ہے اور بچہ معذرت کرنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ق
Say Thanks
بچوں کا شکریہ ادا کیا کریں ۔ وہ جب کوئی کام کریں تو کوشش کریں " جزاک اللہ " کہا کریں ۔ اس طرح بچہ یہی عادت اپنا لیتا ہے ۔۔
بچوں کو فیصلہ کرنے دیں
میں نے اکثر بچوں کو اس وجہ سے بیزار پایا کہ وہ والدین کی زبردستی کا شکار تھے ۔ آپ بچے کے پیدا ہوتے ہی ان کو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا سبق دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ فیصلہ اپنے بچوں کو خود کرنے دیں ۔ بچہ جس مضمون یا فیلڈ میں دلچسپی لے اسے اسی میں جانے کا موقع دیں ۔ یاد رکھیں زبردستی کے نتیجے میں آپ کا بچہ ڈاکٹر بن کر بھی ناکام رہے گا اور اپنی دلچسپی کی بنا پر وہ بی اے یا ایم اے کر کے بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔
کمپلیکس کا شکار مت کریں ۔
اکثر مائیں بچوں کو رشتے داروں کے سامنے انگریزی استعمال کرنے پر زور دیتی ہیں ۔ رشتے دار کے سامنے بیٹا اورینج کھا لو اور گھر میں مالٹا کتھے ۔۔ مالٹا کتھاں ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ بچوں کو اس کشمکش کا شکار مت کریں ۔ وہ مالٹا کہے یا اورینج دونوں ہی درست ہیں ۔ دوسروں کے سامنے نمبر بنانے کے چکر میں اپنے بچوں کا بیڑہ غرق مت کریں ۔
کردار سازی
بچپن سے ہی بچوں کی کردار سازی کریں تاکہ بعد کے مسائل سے بچا جا سکے ۔ آپ جانتے ہیں کہ ٹوکیو میں بچوں کو چار سال تک سکول میں صرف یہ سکھایا جاتا ہے کہ صفائی کیسے کرنی ہے ۔ چھوٹے بڑے کا احترام کیسے کرنا ہے ۔ یہ مسلمانوں والی عادات ہیں ۔ صفائی نصف ایمان ہے اور آپ اپنے بچے کو پیدا ہوتے ہی انگریزی ، پنجابی اور اردو کی کشمکش میں ڈال دیتے ہیں ۔ بچوں کو چھوٹے پر شفقت اور بڑوں کے ادب کا درس دیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں ہر شفقت اور اپنے والدین اور باقی تمام رشتے جو بڑے ہیں ان کا ادب کرنے لگے گا ۔ میری بات غور سے سنیں زبردستی کے نتائج اچھے نہیں آتے ۔ آپ نے یہ کردار سازی شفقت اور پیار سے کرنی ہے کہ بیٹا چھوٹے پر شفقت کرنے اور بڑوں کا ادب کرنے سے اللہ تعالی خوش ہوتا ہے . آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔ لوگ آپ کو پسند کرنے لگتے ہیں ۔ آپ کے خواب پورے ہو جاتے ہیں ۔ آپ کو کامیابی ملتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان کو اپنی ، گھر ، سکول ، کلاس ، گلی اور محلے کی صفائی رکھنے کا درس دیں ۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادات بہت مثبت نتائج دیتی ہیں ۔
بچوں کے ساتھ بانڈنگ
ایک دن شاہد بھائی نے گفتگو کے دوران کہا کہ " وسیم بھائی میرا بیٹا مجھ سے زیادہ اٹیچ نہیں ہوتا، اس کیلئے مجھے کیا کرنا چاہیے؟".
میں نے کہا کہ آپ مجھے اپنی روٹین کے بارے بتائیں؟
بتانے لگے کہ " صبح جب بچے سکول جاتے ہیں، تب میں سویا ہوا ہوتا ہوں اور رات کو جب میں دکان سے گھر جاتا ہوں تو بچے سو رہے ہوتے ہیں ".
میں نے کہا کہ شاہد بھائی بچوں کے ساتھ اٹیچ ہونے کیلئے بچوں کو وقت دینا پڑتا ہے، بچوں کی سننی پڑتی ہے، ان سے گفتگو یا مکالمہ کرنا پڑتا ہے. ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ آج سکول میں دن کیسا گزرا؟ دوستوں کی فہرست کیسی ہے؟ کون سا ٹیچر زیادہ پسند ہے اور کیوں؟ سکول میں کوئی مسئلہ تو نہیں؟ کوئی تنگ تو نہیں کر رہا؟ زندگی میں کیا بننا چاہتے ہو؟ آپ کے کیا خواب ہیں؟ آپ کی دلچسپی کس مضمون میں ہے؟ آپ کا پیشن کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ.................
بچوں سے اس طرح کے سوالات پوچھ کر، ان سے گفتگو کر کے، ان کے ساتھ وقت گزار کر، ان کی سن کر، ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جانے سے ان کے ساتھ والدین کا بانڈ مضبوط ہوتا ہے.. اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں.
سارا دن کس کیلئے کماتے ہیں؟ ان بچوں کیلئے ہی کماتے ہیں.... ہفتے میں ایک چھٹی کر لیا کریں اور اپنی بیوی بچوں کو کسی قریبی شہر میں، کسی قریبی ہوٹل پر، کسی قریبی پارک میں لے جایا کریں.. گاڑی، موٹر-سائیکل یا سائیکل اہمیت نہیں رکھتے.. وقت کی اہمیت ہوتی ہے.
اچھے ہوٹل کو افورڈ کر سکتے ہیں یا پھر ایک سادہ ہوٹل کو، چاہے آئس کریم کا ایک چھوٹا سا کپ کھلا دیں یا پھر گول گپے ہی کھلا دیں... اہمیت اس وقت کی ہوتی ہے جو آپ بیوی بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور خوشیاں پیسے یا بڑی بڑی چیزوں سے نہیں بلکہ اپنے قریبی رشتوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ملتی ہیں...
 
نوٹ :  آپ لوگ اپنی رائے کا اظہار کر کے رہنمائی بھی کر سکتے ہیں ۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post