Alcatel Pixi   Price Data

Alcatel Pixi   Price Data

Alcatel Pixi   Price Data

بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت کا پہلا مرحل The first phase of children's frustration and training

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 


بچوں کی فرسٹریشن اور تربیت   کا             پہلا مرحلہ
تعلیمی اداروں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو باقائدہ رقص کروایا جاتا ہے ۔ جس کا جدید نام " ٹیبلو" رکھا گیا ہے ۔۔ ہم اپنے چار چار سال کے بچوں کو وہ ماحول مہیا کر رہے ہیں جو ان کی سوچ پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔ والدین بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی سکول کے فنکشن میں سٹیج پر رقص کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔و
یاد رکھیں کہ بچے کم عمری میں ہی سیکھتے ہیں ۔ بڑے ہو کر جب وہ ہاتھ سے نکل جاتے ہیں تو پھر آپ ماتم کرتے ہیں کہ بچے ہماری بات تک نہیں سنتے ۔ جو سیکھنے کی عمر ہے اس عمر میں آپ بچے کو ساری تربیت غلط دیتے ہیں ۔ چھوٹا بچہ ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے اور کم عمری میں کی گئی تربیت اس کورے کاغذ پر ایک پرماننٹ مارکر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جسے آپ بعد میں چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتے ۔۔ ایک سال کی عمر سے ہی آپ کا بچہ چیزوں کو اپنے کاغذ پر اتارنا شروع کر دیتا ہے ۔۔ آپ نے اس کاغذ کو اگر ساری منفی چیزوں سے بھر دیا ہے تو اب آپ کی مثبت تربیت رائیگاں جاتی ہے ۔س
ہمارے سارے ڈرامے یہاں تک کارٹون بھی یہی کام کر رہے ہیں اور اوپر سے آپ لوگوں نے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں ماچس دے کر انہیں سوکھی لکڑی کے جنگل میں کھڑا کر دیا ہے ۔ مطلب آپ نے ان کے ہاتھ میں موبائل فون دے دیا ہے ۔ بچوں کی آج کل کی خوراک اور اوپر سے یہ موبائل فون ۔ نتائج کیا نکلے ؟ آپ کا بچہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہا ہے ۔ بچے بالغ جلدی ہو رہے ہیں لیکن رسم و رواج کی وجہ سے شادیاں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں ۔ نتائج ؟ آپ کے بچے غلط اور حرام راستے کا انتخاب کرنے لگے ہیں ۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ سیکس کسے کہتے ہیں ۔ اب وہ دور نہیں رہا جب کہا جاتا تھا کہ جب آپ سوئے ہوئے تھے تو چاند ماموں یا فرشتے آپ کا بھائی یا آپ کی بہن میری گود میں ڈال کر چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔یہ
چھوٹی بچیوں کا بڑی عمر کے مرد اور چھوٹے لڑکوں کا بڑی عمر کی خواتین استحصال کر رہی ہیں . بہت سی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں دس گیارہ سال کے لڑکے کو ان کی فی میل ٹیچرز اپنی جنسی تسکین کیلیے استعمال کر رہی ہیں اور ایسے تو ہزاروں کیسز ہیں جن میں میل ٹیچرز اپنی کم عمر سٹوڈنٹس کو اپنی تسکین کیلیے استعمال کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ آج کل چار یا چھ سال کے بچے کو بھی اریکشن یا عضو کی سختی پیدا ہو جاتی ہے ۔ آپ میں سے بہت سی مائیں اس بات کو بخوبی جانتی ہوں گی ۔ البتہ یہ بلوغت تو نہیں ہے لیکن یہ وہ اشارے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارا ماحول بچوں کو کم عمری سے ہی فریسٹریشن کا شکار کر رہا ہے ۔۔۔ م
آپ کی سکرین پر پھیلی فحاشی آپ کے بچوں کو کیا دے رہی ہے ؟ صرف اور صرف فریسٹریشن ۔ اوپر سے ہمارے ماحول میں چھوٹے ہیں ، ابھی بچے ہیں ۔ یہ جملے ہمیں باریک باتوں کو نظر انداز کروا دیتے ہیں جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے ۔ آپ کا بچہ بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے ۔ اس دوران کوئی بھی مناظر اس کے سامنے آ سکتے ہیں ۔ آج کا بچہ وہ بچہ نہیں رہا اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ ہم بہت سی برائیوں سے اس وجہ سے محفوظ رہے ہیں کہ ہمارے والدین کی ساری توجہ ہم پر ہوا کرتی تھی ۔ واش روم میں اگر وقت زیادہ لگتا تو دروازے پر دستک دے دی جاتی تھی ۔ طرح طرح کے سوال ہوتے تھے ۔ لیکن آج کل کے والدین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں رہا ۔۔۔3
باپ سارے دن کے کام کاج کے بعد اپنے دوستوں کو وقت دیتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں اور مائیں بیچاری تو اب کچن کا کام ہی اتنی مشکل سے کرتی ہیں کیونکہ ڈرامہ سیریل دیکھنا ہے ۔ ان حالات میں بچے کہاں جائیں گے ؟ نہ باپ کے پاس وقت ہے اور نہ ماں کو فرصت ہے ۔ اوپر سے تیس چالیس کلو کا بیگ لے کر وہ سارا دن ایک گدھے کی طرح خوار ہوتے ہیں ۔ رات کو دو گھنٹے بھی آپ لوگ اگر اپنے بچوں کیلئے نہیں نکال سکتے تو آپ کو میرا سلام ہے ۔ 6
ایک استاد محترم نے بہت پیاری بات کی تھی کہ " آپ اپنے بچوں کے پیپمر بھی ایک دوسرے کے سامنے چینج مت کیا کریں پھر وہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو" ۔ بات بہت چھوٹی ہے لیکن بہت گہری ہے ۔ مگر ہمارے بچے ننگے یا آدھے ننگے ۔۔ لڑکیوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن بچہ اگر لڑکا ہو تو خاص توجہ نہیں دی جاتی جبکہ لڑکے کے معاملے میں بھی یہ سب اتنا ہی ضروری ہے جتنا لڑکی کے معاملے میں ۔۔اب کچھ لوگ کہیں گے کہ اس معاشرے کو گھٹن زدہ بنانے والی باتیں ہیں تو بھئی بات یہ ہے کہ آپ ہر وہ کام کریں جو آپ کے بچے کو مثبت کرے اور ہر اس کام سے پرہیز کریں جو آپ کے بچے کو منفی کر دے ۔ ہم چھوٹی اور باریک باتوں پر اب توجہ نہیں دے رہے تبھی تو مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔۔9
آپ بچے کو موبائل کیوں دیتے ہیں ؟آپ نہیں جانتے کہ رمضان کے مہینے میں بھی جب آپ کچھ سرچ کرنے لگتے ہیں تو فحش مواد آپ کے سامنے آ جاتا ہے تو بچوں کیلئے تو یہ سب آگ پر تیل کی مانند ہے ۔ زیادہ پیار اور ڈھیل بھی بچوں کو خراب کرتی ہے اور زیادہ سختی بغاوت کو جنم دیتی ہے ۔ اعتدال قائم کریں ۔ آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں ۔ جہاں پیار کی ضرورت ہو وہاں سختی کرتے ہیں اور جہاں سختی کی ضرورت ہو وہاں پیار کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اچھے والدین بننے کا سبق حاصل کریں جناب ۔۔ نوالہ سونے کا کھلائیں مگر نظر شیر کی رکھیں ۔ 5
میری بہن ابھی چھوٹی ہے ۔ مجھے نہیں یاد کہ ہمارے والد صاحب یا ہم بھائیوں کو کبھی اپنی بہن کے لباس یا دوپٹے پر بات کرنے کی نوبت پیش آئی ہو کیونکہ یہ کام ماں کا ہوتا ہے ۔ بلکہ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میری والدہ میری بہن کو دوپٹہ درست کرنے کا کہہ رہی تھیں تو میں نے بہن کی غیر موجودگی میں کہا " امی جی ذرا ہولا ہاتھ رکھا کریں ابھی چھوٹی تو ہے " ۔ مجھے آگے سے جواب ملا " تمہیں اس معاملے میں بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ۔ اور کیا مطلب چھوٹی ہے ؟ تربیت چھوٹی عمر میں ہی کی جاتی ہے ۔ جب بیج درخت بن جائے تو صرف پھل لیا جاتا ہے جبکہ ساری محنت اور احتیاط بیج سے پودا بننے تک ہوتی ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2
ہمیں بچپن میں بار بار کہا جاتا تھا کہ کوئی بات نہیں اپنی کزن کو چھوڑ آو ۔ بہن ہے تمہاری ۔ بہنوں کا کام بھائی ہی کیا کرتے ہیں ۔ تمہارا بھائی ہے ۔ تمہاری بہن ہے ۔ یہ جملے ہمارے ذہن پر کیل کی طرح گاڑے جاتے تھے تاکہ کوئی فضول سوچ ہمارے ذہن میں پیدا نہ ہو ۔ لیکن اب میرا دوست ہے ۔ میری دوست ہے ۔ یہ جملے مارکیٹ میں آ گئے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان پر اب توجہ نہیں دی جاتی ۔ کم عمری میں یہ نظریہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اتنا آزاد خیال بنا دیتا ہے کہ پھر بچے ہماری پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں ۔۔

نوٹ : یہ آرٹیکل دس مرحلہ پر محیط ہوگا ۔ اس کے بعد پانچ اقساط پر مشتمل ایک تربیت بیس سسٹم بتایا جائے گا جس کے زریع آپ اپنے بچوں کی گھر پر تربیت کر سکیں گے ۔آپ لوگ اپنی رائے کا اظہار کر کے رہنمائی بھی کر سکتے ہیں۔ شکریہ

Post a Comment

Previous Post Next Post