سہہ پاکستان 🇵🇰 کی جنگلی حیات Porcupine

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  


پاکستان 🇵🇰 کی جنگلی حیات۔
 سہہ Porcupine :
شاید بہت کم لوگ ہی جانتے ہوں کہ سہہ ایک روڈنٹ ، چوہے کی نسل کی جانور ہے۔ پاکستان میں پائی جانے سہہ کی اس مخصوص قسم کا نام Indian crested Porcupine ہے۔
یہ بھورے و سیاہ جسم کے ساتھ لمبے سیاہ کانٹے رکھتی ہے جن پر سفید نشانات ہوتے ہیں۔
۔
سائنسی نام:
Hystrix indica
۔
جغرافیائی حدود:
یہ ایک ایشیائی سہہ ہے جو ان ممالک میں ملتی ہے۔۔۔
پاکستان 🇵🇰
بھارت 🇮🇳
آرمینیاء🇦🇲
آذربائیجان🇦🇿
چین🇨🇳
ایران 🇮🇷
عراق 🇮🇶
اسرائیل🇮🇱
فلسطین🇵🇸
اردن 🇯🇴
قزاقستان 🇰🇿
شام🇸🇾
نیپال🇳🇵
سعودی عرب🇸🇦
سری لنکا🇲🇩
ترکمانستان 🇹🇲
یمن🇾🇪
ترکی🇹🇷
افغانستان🇦🇫
۔
مسکن :
گھاس کے میدان، دیہاتی علاقے ،زیر کاشت رقبی، صحرائی خطے، جھاڑ، نیم جنگلی خطے، حاری جنگلات، سوانا جنگلات ۔
۔
جسمانی پیمائشیں:
لمبائی = 90 سم
وزن = 5 سے 18 کلو تک۔

خوراک:
اس کی خوراک میں پھل، سبزیاں، اناج، فصلیں، بیج، جڑیں اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔
۔
عمر :
20 سال تک۔
۔
رہن سہن:
سہہ کی رہائش زمین میں کھودی گئی کھوہوں میں ہوتی ہے۔ یہ رہتے خاندان کے ساتھ ہیں تاہم خوراک کے لیے اکیلے نکلتے ہیں۔ دن کو یہ اپنی کھوہوں میں سوتے ہیں اور رات کو خوراک کی تلاش میں جاتے ہیں۔ فصلوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ان کا اکثر و بیشتر انسان سے ٹاکرا ہوجاتا ہے۔
قدرتی ماحول میں انہیں جنگلی بلیوں، تیندوے،بھیڑیوں، لگڑ بھگوں،جنگلی کتوں، کراکال، اور مگرمچھوں سے خطرہ رہتا ہے۔ خطرے کے وقت یہ اپنی کانٹے کھڑے کر لیتے ہیں اور بعض اوقات دشمن پر کانٹوں کی مدد سے حملہ بھی کردیتے ہیں۔
ان کو شکار تبھی کیا جاسکتا ہے جب شکاری جانور کسی طرح اس کے پیٹ پے وار کردے یا پھر اس کا سر کچل دے۔
سہہ اچھے تیراک ہوتے ہیں۔
اس کے بارے میں ایک فرضی قصہ یہ مشہور ہے کہ سہہ اپنے کانٹوں کو تیر کی طرح دشمن پر داغ سکتی ہے جبکہ یہ قطعی غلط ہے۔
بھارت میں ایک اور ضعف الاعتقاد بھی مشہور کے کہ اگر سہہ کے کانٹے کسی گھر میں چھپا دیے جائیں تو وہاں نا اتفاقی اور لڑائی ہونے لگتی ہے۔۔
۔
بریڈنگ :
سہہ ایک یک زوجیہ جانور ہے۔
ان کے ہاں بریڈنگ سیزن فروری-مارچ میں ہوتا ہے۔ حملہ کا دورانیہ 240 دن ہے۔ فی سیزن مادہ سہہ 2 سے 4 بچوں کو جنم دیتی ہے۔ پیدائش کے بعد 3 سے 4 ماہ تک بچے ماں کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں۔
2 سال کی عمر میں سہہ بالغ ہوجاتے ہیں۔
۔
بقائی کیفیت:
بھارت کے کچھ حصوں میں سہہ کو گوشت کی خاطر شکار کیا جاتا ہے۔ اسے فصلوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے بھی مارا جاتا ہے اس کے علاؤہ قدرتی مساکن کی تباہی اور انسانی آںادی و رہائشی علاقوں میں اضافے سے بھی اس کی نسل کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔
تاہم مجموعی طور پر اس کی نسل کو کوئی ہنگامی خطرات لاحق نہیں ہیں۔





Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post