چڑی، چڑیا True or Information about Sparrows

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 



چڑی، چڑیا :True or House Sparrows
اگر دنیا میں سب چڑیاں مار ڈالیں تو انسان بھی مر جائیں گے!
چڑیا جو نہ صرف ہمارے ملک کا سر عام پرندہ ہے بلکہ پورے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے صرف چند شمالی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ آسٹریلیا، شمالی و جنوبی امریکہ میں نہیں پائی جاتی تھی کیونکہ تینوں براعظموں کے درمیان سمندر ہے جبکہ یورپ ایشیا اور افریقہ کہیں نہ کہیں سے مل جاتے ہیں اسلئیے ان علاقوں میں تو یہ خوب پھیلی لیکن دوسرے براعظموں میں ان کو لے جاکر گوروں نے فضا میں چھوڑ دیا تاکہ نسل بڑھائے اور سونڈیاں وغیرہ کھا کے انسانوں کو فائدہ پہنچائے لیکن اسنے الٹا دوسری وہاں کی رہائیشی چڑیوں اور پرندوں کے گھونسلے گرا کر انکی نسل کم کر ڈالی اور گورے سر پیٹتے رہ گئے۔ دراصل جس جانور یا پرندے کو خدا نے کسی علاقے میں نہیں رکھا وہ وہاں کے لئیے نہیں بنا۔ انہوں نے نیولے اور سور بھی امریکی براعظموں کے جنگلوں میں پہنچا کر تجربے کئیے لیکن ان دونوں جانوروں نے بھی نقصان کیا۔ اسلئیے انسانوں کو چاہئیے کہ وہ اس معاملے میں عقل سے کام لیں اور قدرتی خودکار نظام سے پنگے نہ کیا کریں۔
خیر واپس آتے ہیں چڑیا کی طرف۔ اس چڑیا کو جو آپ دیکھتے ہیں اس کو House Sparrow یا True Sparrow کہتے ہیں اور ان چڑیوں کے علاوہ دوسری چڑیوں کو ملا کر ان کے خاندان کو سائینس نےPasseridae کا نام دیا ہے جو کہ دنیا کے پرندوں کی کل تعداد کا تقریباً آدھا حصہ بنتے ہیں۔ ایسے پرندو ں کی تین انگلیاں آگے اور ایک انگلی پیچھے ہوتی ہے جو ان کو چھوٹی موٹی ٹہنیوں پر مضبوطی سے بیٹھنے میں مدد کرتی ہیں۔




گھریلو چڑیوں کا تعلق یورپ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن عقل یہ کہتی ہے کہ اسکا تعلق جنوبی ایشیائی ممالک خصوصاً پاکستان اور بھارت سے ہے اور یہیں سے یہ باقی براعظموں میں پھیلی۔ اس دعوے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو تاریخ یہ بتاتی کے آبادی یہاں کے دریائوں کے آگے پیچھے سے آباد ہونا شروع ہوئی دوسرا چڑیا کی فطرت کہ یہ انسانوں کے گھروں میں اپنا گھر بناتی ہے تیسری بات یہ کہ یہ اناج گندم چھلی اور جو وغیرہ کھانا پسند کرتی ہے جو اس علاقے میں خوب اگتا ہے۔ چوتھی بات اسکے جسم کا رنگ ہے جو گندم کے کھیتوں میں باآسانی اسے چھپا(Camoflouge) دیتا ہے۔ پانچویں بات اسکی آواز بہت چیں چیں کرتی ہے جو ہماری پنجابی سے ملتی جلتی ہے 😁.
جسمانی خدوخال:
چڑیا تقریباً 40 گرام اور چھ انچ کا پرندہ ہے۔ یہ 42 کلومیٹر تک اڑنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اسکی اڑان چھوٹی موٹی ہوتی ہے۔ یہ اپنے گھونسلے سے زیادہ دور نہیں جاتے۔ نر اور مادہ کی پہچان بہت آسان ہے نر کے سینے اور چونچ کے اردگرد کالا رنگ (Black Bib) ہوتا ہے اور وہ زرا وزن میں کچھ گرام زیادہ ہوتا ہے جبکہ مادہ زرا ہلکی اور رنگ بھی ہلکا۔ ان کا سر جو آپ ہر وقت آگے پیچھے مڑتے دیکھتے ہیں۔ دراصل ہماری طرح یہ اپنی آنکھیں نہیں گھما سکتے اسلئیے سر کو چاروں طرف آگے پیچھے گھما کر یہ خطروں سے آگاہ رہتی ہیں۔ بچوں کی چونچ پیلے رنگ کی ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ پک کر کالی مائل ہوجاتی ہے۔ انکی چونچ بھئ اسی سوکھے پروٹین Keratine سے بنی ہوتی ہے جن سے ہمارے ناخن اور بال بنتے ہیں۔ اب ڈر یہ ہے کہ ارتقا کہیں یہ نہ کہہ ڈالے کہ بندر والی بات غلط تھی ہم دراصل چڑیوں سے بنے ہیں 😄.
افزائش نسل:
چڑیاں بہت تیزی سے نسل بڑھاتی ہیں۔ یہ ایک سال میں دو سے بیس ہوجاتی ہیں۔ چڑیاں ملاپ کے وقت بوڑھے یا عمر رسیدہ نر کو ترجیح دیتی ہیں اور یہ بات شاید انہیں ایسے پتہ ہے کہ بوڑھے نر کا گلا وقت کے ساتھ ساتھ کالا ہوتا جاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ عمر رسیدہ نر ماحول کو بہتر جانتا ہے اور گھونسلہ بنانے بچوں کو کھلانے اور گھونسلے کی حفاظت میں بہتر ڈیوٹی سرانجام دے سکتا ہے۔ کیونکہ ان تینوں کاموں میں نر یعنی چڑے کی زمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔
چڑیا 2 سے 7 تک انڈے دیتی ہے جسے سینکنے میں 12 دن لگ جاتے ہیں اور تقریباً دو ہفتے بچے گھونسلے پر ہی رہتے ہیں۔ انکا انڈے دینے کا کام جنوری سے ہی شروع ہوجاتا ہے لیکن اصل سلسلہ اپریل موسم بہار سے شروع ہوتا ہے اور انہی دنوں میں آپ اپنے گھروں میں انکے گھونسلے زیادہ دیکھیں گے۔ یہ انڈے دینے کا کام ستمبر تک جاری رہتا ہے اسکے بعد سردیوں میں بچوں کا بچنا مشکل ہوتا ہے اسلئیے مادہ ملاپ بند کردیتی ہے۔ نر اور مادہ تمام عمر اکٹھے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی مر جائے تو کسی اور کے ساتھ جوڑا بنالیتے ہیں۔
چڑیا کا گھونسلہ:
چڑی انسانوں کے گھروں میں گھونسلے بنانا پسند کرتی ہے۔ اسکے علاوہ درختوں کے چھوٹے موٹے سوراخوں میں بھی گھونسلہ بنا لیتی ہے۔ انسانی گھروں کو گھونسلے کے لئیے ترجیح دینے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ ائریا ان کے شکاری پرندوں سے محفوظ ہوتا ہے دوسرا یہ انسانوں کا بچا کچھا کھانا بھی کھا لیتی ہیں۔ گھروں میں بھی آپ انکے گھونسلے ٹیوب لائیٹوں کی فریموں، روشندانوں، اے سی یونٹس، چھتیوں پہ پڑے نہ استعمال ہونے والے برتن چھتوں پہ لگے پھنکے وغیرہ پہ دیکھتے ہیں۔ یہاں بھی یہ بلیوں سے بچنے کے لئیے اپنے گھونسلے بناتی ہے تاکہ اسکے پاس ان تک پہنچنے کا کوئی رستہ نہ ہو۔ اصل میں یہ چھ انچ کا پرندہ ہے اور اسکا گھونسلہ آٹھ انچ کا ہوتا ہے اس لئیے جہاں بھی اسے آٹھ انچ کی محفوظ جگہ مل جائے یہ گھونسلہ بنا ڈالتی ہے۔ ان کا گھونسلہ بنانے کا طریقہ بھی کمال ہے۔ پہلے دونوں گھاس پھوس کا ڈھیر لگاتے ہیں پھر اسکے بار ڈر میں تنکے گاڑھ کر دھاگے لگا کر اسے مضبوط کردیتے ہیں۔ مادہ کواندر کا ٹمپریچر گرم رکھنے کے لئیے پر یا کھنمب چاہئیے ہوتے ہیں اور یہ زمہ داری چڑا پوری کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو چڑا جتنے زیادہ کھنمب لے کر آتا ہے مادہ اتنا ہی زیادہ ملاپ کرتی اور زیادہ انڈےدیتی ہے، اسکی وجہ کہ زیادہ کھنمب گھونسلے کا درجہ حرارت درست رکھیں گے اور بچوں کی افزائش بہتر ہوگی۔
گھروں سے گھونسلے ہٹانے ہوں تو کیا کریں؟
اگر تو بیچ میں انڈے یا بچے ہوں تو بالکل کچھ بھی نہ کریں۔ انہیں دو چار ہفتے دیں اور دیکھتے رہیں۔ جیسے ہی آپ کو انڈےاور بچے غائب دکھائی دیں گھونسلہ ہٹا دیں۔ کمروں کے سوراخوں کو بند رکھیں اور روشندانوں کے باہر جالی لگوا کر رکھیں تاکہ چڑیاں نہ اندر گھسیں نہ گھونسلہ بنائیں۔ یہ ماحول دوست جانور ہیں ہوسکے تو آٹھ انچ کی ڈولیاں، لکڑی کے گھر یا گتے کے ڈبے میں چھوٹا سوراخ کرکے انکو کسی اونچی جگہ پر دیواروں میں لگا دیں۔ اس سے ایک تو یہ آپ کو صبح صبح جگا کر آپ کے پھیپھڑوں کو تازہ ہوا دلوائے گی😃۔ دوسرا گھر میں فالتو روٹی کے ٹکڑے چاول اور کیڑے کھائے گی۔ فصلوں پہ دانوں پہ حملہ ہوتی ہو تو وہاں باز اور سانپوں کے پتلے رکھیں۔ پودینے کی بو بھی انہیں بھگاتی ہے۔
چڑیا کا بچہ:
اسکی چونچ پیلی ہوتی ہے جو ابھی پک رہی ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ گھونسلے میں کب سے ان کی آوازیں آرہی ہیں اور چڑی چڑیا واپس نہیں آرہے تو پھر لازماً وہ شکار ہوگئے ہیں۔ آپ یہ نیکی کریں ان کو جوس والے رس بھرے چھوٹے موٹے کیڑوں اور سونڈیوں کے ٹکڑے کھلائیں۔ چڑیاں ویسے تو اناج پسند ہوتی ہیں لیکن کیڑے بھی کھاتی ہیں اور نومولد بچے چونکہ ان کے جسم کو وزن پکڑنے کے لئیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اس لئیے یہ ان کو رس بھرے کیڑے اور ٹڈے کھلاتی ہیں۔ رس بھرے کیڑے کیوں؟ تاکہ پانی کی کمی بھی پوری ہوجائے۔ چڑیاں بچوں کو پانی نہیں پلاتیں کہ کہیں جسم کا درجہ حرارت گڑبڑ نہ ہوجائے اور نمونیے کا شکار ہوکر مر نہ جائیں۔ یہ بچوں کی بیٹ(excretion) بھی گھونسلے سے باہر پھینکتی رہتی ہیں تاکہ کوئی بیماری نہ پھیل جائے۔
چڑیاں اور تیمم:
اگر آپ نے تیمم کا طریقہ سیکھنا ہے تو چڑیوں سے سیکھ لیں۔ چڑیاں Mud bath لیتی ہیں اور یہ کام یہ گروہوں کی شکل میں کرتی ہیں۔ چونچ سے زمین کو کرید کر اس میں بیٹھ جاتی ہیں اور پروں اور سر میں خوب خشکی مٹی ڈالتی ہیں۔ اسکا مقصد خطرناک جراثیموں اور خون چوسنے والے ننھے کیڑوں (Parasites)کو جسم سے ہٹانا ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ پانی میں بھی اکٹھے نہاتی ہیں۔ جہاں چڑیوں کے گھونسلے ہوں وہاں پاس ایک چوڑے برتن میں پانی ڈال کر رکھ دیں آپ دیکھیں گے ان کو نہاتے ہوئے۔
چڑیاں بہت غصیلی ہوتی ہیں:
خاص کر چڑا جو آپ کے چہرے کے قریب سے اڑ کر جائے گا ڈرانے کے لئیے۔ کیونکہ آپ ان کے گھونسلے کے قریب ہیں۔ ان کا غصہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ دوسرے پرندوں پر بھی اترتا ہے۔ یہ اکثر اپنے جیسے سائز والے پرندوں کے گھونسلوں سے ان کے انڈے گرا کر اپنا گھر شروع کردیتی ہیں۔ امریکہ آسٹریلیا میں یہی تو ہوا ، یہ یورپ سے وہاں لے کر گئے کہ کھیتوں سے ٹڈے اور سونڈیاں کھائے جبکہ اس نے وہاں کے مقامی پرندوں کے انڈے پھینک کر انکی نسل کشی شروع کردی۔ اسلئیے ان ممالک میں اس کو اکثر ہٹایا جاتا ہے(پہلے لائے کیوں تھے؟)۔
اب آتے ہیں پہلی بات کی طرف کہ چڑیاں مر جائیں تو انسان کیسے مر جائیں گے؟
1958 کی بات ہے جب چین میں کمیونسٹ انقلاب آچکا تھااورچینی بانی مائوزے تنگ نے تمام کھیتوں میں پرائیویٹ فارمنگ ختم کرکے گورمنٹ کے اصولوں پر چلانا شروع کردیا تھا۔ تو کسی سیانے نے اسے مشورہ دیا کہ چڑیاں ہمارے کھیتوں سے بیج چگ جاتی ہیں اسلئیے ان کا کچھ کریں۔ اس نےکہا فضول پرندہ ہے جہاں ملے مار ڈالو۔ تو چینی کسانوں نے یہی کیا۔ پورے زرعی علاقوں سے چڑیاں مارنےکا کام سٹارٹ ہوا اور کروڑوں چڑیاں مار ڈالی گئیں۔
واہ مسئلہ ہوگیا یا نہیں؟ اب ہوا یہ کہ ٹڈی دل اور دوسرے فصںلیں خراب کرنے والےکیڑوں کو مفت کی پکی پکائی فصل مل گئی اور وہ تعداد میں دوگنے چوگنے ہوکر تمام فصلوں پر چھا گئے اور سب کچھ تباہ کر ڈالا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں نہ بچانے آئیں کھیت۔
خوراک کی شدید کمی ہوگئی پورے چین میں ہی قحط چھا گیا اور چینی لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ چینی لکھاروں اور صحافیوں نے انسانوں کے مرنے کی تعداد کروڑوں میں لکھی ہے اور لوگ اپنے پیاروں کا مردہ گوشت تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ یہ واقعہ اتنا بھیانک ہے کہ چین میں اس واقعے پر بات نہیں کی جاتی اور اس پہ لکھی بہت ساری چینی لکھاریوں کی کتابیں چین میں بین ہیں۔
دنیا بھر میں جہاں ٹڈی دل کے حملے چل رہے ہیں وہاں ممکن ہے چڑیوں کی تعداد کم ہوچکی ہے۔ اس جانور سے پیار کریں یہ آپ کا دوست ہے۔ انکا شکار اور قتل مت کریں یہ ہمیں زندگی بخشتے ہیں۔ کبھی ان کو غلیل یا پتھروں سے مت ماریں۔ اگر چڑیا گھر نہیں پہنچے گی تو اسکے بچے بھوک سے مر جائیں گے۔ ان کی اوسط عمر 3 سال ہوتی ہے

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post