انسانوں کے فنگر پرنٹس مختلف کیوں ہوتے ہیں Why are human fingerprints different?

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 


انسانوں کے فنگر پرنٹس مختلف کیوں ہوتے ہیں؟
انسان کے فنگر پرنٹ بنانے میں وہ طرح کے عوامل کا کردار ہوتا ہے۔
ایک انٹرنل(جینیٹک) فیکٹرز اور دوسرے ایکسٹرنل۔
جینیٹک فیکٹرز میں انسان کی جلد، مسلز، بلڈ ویسلز وغیرہ کو بنانے والی جینز شامل ہیں۔ اسی وجہ سے آئڈینٹیکل ٹونز کے فنگر پرنٹس میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن آئڈینٹیکل ٹونز کے فنگر پرنٹ بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف جینیٹک عوامل فنگر پرنٹس کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ماں کے پیٹ میں ڈیویلپمینٹ کے دوران بہت سارے دوسرے ایکسٹرنل عوامل بھی موجود ہیں جو فنگر 
پرنٹس کے بننے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔




بلڈ پریشر، ماں کے پیٹ میں بچے کی پوزیشن، بچےکےاردگرد موجود ایمنی اوٹک فلوئڈ کی ترکیب، انگلی کی پوزیشن وغیرہ وہ عوامل ہیں جو فنگر پرنٹس کے بننے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اب ان باتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو انسانوں کے فنگر پرنٹس کا ایک جیسا ہونا ناممکن سی بات ہے۔

بیرونی عوامل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئڈینٹیکل ٹونز کے فنگر پرنٹس ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک انسان کے ایک ہاتھ اور دوسرے ہاتھ کے فنگر پرنٹس بالکل ایک
 جیسے نہیں ہوتے۔ اور تو اور ایک انسان کے ایک ہی ہاتھ کی مختلف انگلیوں کے فنگر پرنٹس بھی ہر لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔

ویسے یہ فنگر پرنٹس جیسا پیٹرن صرف ہاتھوں کی فنگرز پر موجود نہیں ہوتا۔ ہاتھوں کی ہتھیلی پر بھی لکیروں کا ایک پیٹرن بنتا ہے۔ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو غور سے دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں پر لکیروں کا پیٹرن ایک جیسا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لکیروں کا یہ پیٹرن پاؤں کی نچلی سائد پر بھی موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان وہ اکیلا جانور نہیں ہے جس میں فنگر پرنٹس پائے جاتے ہیں۔ انسان کے علاوہ چمپینری، گوریلا اور کوالا میں بھی فنگر پرنٹس پائے جاتے ہیں۔
انسان کو جانور کہنے والی بات پر پریشان نہیں ہونا۔ بائیولوجیکلی انسان کا شمار کنگڈم اینیمیلیا میں ہوتا ہے۔ یعنی انسان ایک جانور ہی ہے۔

Post a Comment

Please don't enter any spam link in the comment box. Thanks.

Previous Post Next Post